خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 30

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء اور یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی عید ہے۔ کیا لطیف رق ہے محمد رسول اللہ ملی لی اور دوسرے انبیاء کی قربانی میں۔ حضرت ابراہیم کی قربانی بڑی تھی لیکن اس کے بدلہ میں کیا ملا۔ اس کی یاد اس طرح قائم کی گئی کہ کھاؤ اور پیو لیکن محمد رسول اللہ مسلم کی قربانی کے بدلے میں امت محمدیہ کے لئے بھی ایک قربانی رکھی گئی۔ اور وہ یہ کہ روزے رکھو اور فاقے کرو۔ گویا محمد رسول اللہ صلی علیہ کی عید قربانی میں ہی تھی ۔ باقی انبیاء اپنی قربانیوں کے نتیجہ میں کھاتے پیتے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ حتی کہ اپنی اولاد کے لئے بھی صدقہ حرام فرمادیا ۔ پس رمضان آپ کی قربانی کی عید ہے جس طرح عید الاضحیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی اور عید الفطر مسلمانوں کی قربانی کی عید ہے اور سب سے بڑی عید رمضان کی عید ہے ۔ اگر چہ دوسری دونوں عیدیں بھی بڑی ہیں مگر ان سب سے بڑھ کر رمضان ہے۔ جب محمد رسول اللہ علی ایم کی قربانی کی یاد کے لئے انسان کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے بڑھ کر اور کوئی عید نہیں ہو سکتی ، ہر چیز کی خوشی اس کے فوائد کی مقدار کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر ایک چیز کے ہزار فائدے ہوں اور دوسری کے لاکھ تو لاکھ فوائد والی چیز ملنے پر پہلی سے بہت زیادہ خوشی ہوگی۔ چونکہ سب سے بڑھ کر نعمت قرآن کریم ہے اس لئے جس وقت اس کا نزول ہوا وہ نہایت ہی قیمتی اور بابرکت ہے۔ عید الفطر کا تو یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم نے ہمارے رسول کی خوشی میں خوشی منائی آؤ اب ہم تمہاری خوشی میں خوشی مناتے ہیں لیکن اصل عید رمضان ہی ہے۔ خوشی میں لوگ کیا کیا کرتے ہیں ہیں کہ ایک دوسرے کو عطیے دیتے اور آپس میں احسان کرتے ہیں اور حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم مسیر رمضان میں تمام وقتوں سے زیادہ صدقہ دیا کرتے اور احسان کیا کرتے تھے ۔ ان دنوں میں آپ کے صدقہ دینے کی مثال تیز آندھی کی طرح ہوتی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ اسے عید سمجھتے تھے۔ جس طرح تہواروں کے موقع پر بادشاہ اور رؤساء لوگوں کو عطیے دیتے ہیں اسی طرح رسول کریم ملایم رمضان میں مخلوق کو پہلے سے بھی زیادہ فیض پہنچاتے تھے کیونکہ آپ کی عید اس میں تھی کہ تعالی کے لئے اور بنی نوع کے لئے قربانی کریں ۔ ان ایام میں ہم پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یعنی پو پھٹنے ۔ سے لے کر تمام وہ عاقل بالغ جو جو بیمار نہ ہوں بچے کمزور بوڑھے نہ ہوں ں : یا پھر حائضه حاملہ یا دودھ پلانے والی عورتیں جو گو بیمار نہ ہوں لیکن روزہ کی برداشت نہ کر سکتی ہوں۔ عام طور پر اکثر عورتوں کو حمل یا دودھ پلانے کی حالت میں غیر معمولی تکلیف کا امکان ہوتا ہے ۔ یا پھر مسافر که خدا