خطبات محمود (جلد 13) — Page 26
خطبات محمود ۲۶ سال ۱۹۳۱ء ہے بعد میں بہت مشکل سے ہوتا ہے ۔ اسی طرح دہریت کی رو مردوں میں پھیل رہی ہے اس کے متعلق تعلیم یافتہ لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے۔ میرا انشاء ہے کہ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ شائع کئے جائیں اس لئے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں خصوصاً کالجوں کے طلباء کو کہ اپنے اپنے ہاں اپنی انجمنیں بنا کر ایسے ٹریکٹ منگوا کر تقسیم کریں۔ اور اگر ہم پورے زور سے کام کریں تو دہریت کا جوش تین چار ماہ میں ہی ٹھنڈا پڑ سکتا ہے ۔ کیونکہ خدا تعالی سے زیادہ نمایاں اور ثابت شدہ چیز اور کوئی نہیں ۔ لوگوں کو صرف دھوکا لگ جاتا ہے۔ اور اگر چھ سات ماہ تک بھی ہم اس رو کا مقابلہ کریں تو اسے روک سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جو دلائل ہمیں دیئے ہیں ان کے مقابلہ میں کون ٹھر سکتا ہے۔ پس تعلیم یافتہ لوگ اور خصوصا کالجوں کے طلباء اپنی اپنی جگہ پر تیار ہو کر اطلاع دیں کہ وہ ایسے ٹریکٹوں کی اشاعتوں میں کہاں تک حصہ لے سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے آٹھ صفحات کا ایک ٹریکٹ ۱۳ ۱۴ روپیہ ہزار تک چھپ سکے گا اور لاہور میں میں سمجھتا ہوں۔ ڈیڑھ دو ہزار طلباء کالجوں میں ہوں گے ۔ گویا چو میں پچیس روپیہ میں ماہوار ان میں ایک ٹریکٹ تقسیم کیا جا سکتا ہے اور چھ سات ماہ میں ہی اس کا نمایاں اثر ظاہر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح انگریزی میں بھی ایسے ٹریکٹ شائع کئے جائیں۔ تا مدراس ، کلکتہ ، رنگون وغیرہ مقامات پر جہاں اردو نہیں سمجھی جاتی انہیں تقسیم کیا جاسکے اور اس طرح اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تھوڑے عرصہ میں ہی طلباء کے اندر ایک تغیر عظیم پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ جس سے وہ اسلام کے لئے بہت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ہمارے محدود ذرائع کے باوجود اپنے غیر محدود فضل سے ہم سے زیادہ سے زیادہ کام لے اور ہمیں اس مقصد میں کامیاب کرے جس کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔ الفضل ۲۲- جنوری ۱۹۳۱ء) ال الانفال: ۳۴