خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 298

خطبات محمود ۲۹۸ سال ۶۱۹۳۱ ہی اہمیت رکھنے والے امور میں سے ہے۔ بظاہر یہ ایک اجتماع ہے اور بالکل ویسا اجتماع ہے جیسے ہر جماعت اپنے اپنے جلسے منعقد کیا کرتی ہے۔ آریہ اور سنا تنیوں کے بھی معمولی جلے ہوتے ہیں اور سالانہ اجلاس بھی ہوتے ہیں، کانگرس کے بھی جلسے ہوتے ہیں، مسلم لیگ کے بھی جلسے ہوتے ہیں ، ایجو کیشنل کانفرنس کے بھی جلسے ہوتے ہیں ، پھر انجمن حمایت اسلام بھی اپنے جلسے منعقد کیا کرتی ہے ، مسلمانوں کے علاوہ سکھوں ، عیسائیوں اور آریوں کی انجمنیں بھی جلسے کرتی ہیں۔ ان کے علاوہ جس قدر سیاسی انجمنیں ہیں یا اقتصادی اور تمدنی معاملات کے سلجھانے کے لئے انجمنیں ہیں یا پیشہ وروں کی جمعیتیں ہیں سب کے سالانہ اجتماع ہوا کرتے ہیں اور لوگ ایسے موقعوں پر اکٹھا ہوا ہی کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص ارشاد اس ہمارے جلسہ سالانہ کے قیام کے لئے نہ ہوتا اور اسکی طرف سے اشارہ نہ ہو تا تب بھی ممکن تھا جب ہماری ایک جماعت تھی تو اس کے لئے سالانہ جلسہ بھی مقرر کر دیا جاتا جس میں مقررہ دنوں میں تمام لوگ اکٹھے ہوتے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اسکی بنیاد قائم کرنا بتاتا ہے کہ اس جلسہ کی دوسرے اجتماعات کی طرح صرف ظاہری قیمت میں نہیں بلکہ اس میں کوئی مخفی بات ہے اور اس کا اندازہ لگانا ایسا ہی مشکل ہے جیسے اس صحابی کے قول کا جس نے کہا تھایا رسول اللہ ادعا کیجئے میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں ۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ انعام کا خواہش مند ہے اور بلندی درجات کا ذکر سن کر لالچ کرتا ہے اور کہتا ہے مجھے بھی وہ مقام حاصل ہو جائے۔ مگر لانچ پر تو انعام نہیں ملا کرتا۔ انعام قربانی پر ملتا ہے لیکن اس صحابی کو انعامات کامل جاتا بتاتا ہے کہ گو اس کی بظاہر لالچ معلوم ہوتی تھی مگر اس کے دل کو کچھ ایسا گہرا زخم لگا تھا جسے الفاظ بیان کرنے سے قاصر ہیں اور اسے رسول کریم کے الفاظ سے کچھ ایسا کرب محسوس ہوا تھ رب محسوس ہوا تھا کہ اس نے کہا میں رسول کریم میں تعلیم کے برابر کہاں پہنچ سکتا ہوں جب نہیں پہنچ سکتا تو گویا رسول کریم میم سے میری جدائی ہو جائے گی۔ اس دکھ اور تکلیف کی وہ برداشت نہ کر سکا اور اس نے کہا یا رسول الله ادعا کیجئے میں آپکے ساتھ رہوں تب اسکی قلبی کیفیات کو دیکھ کر اور اس دُکھ اور درد کو دیکھ کر جو اسے محسوس ہوا اللہ تعالیٰ نے یہی مناسب سمجھا کہا سمجھا کہ اسے بھی اس مقام پر رکھا جائے جس مقام پر محمد ملا ہم کو رکھا جائے۔ پس ہم نتائج سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس صحابی کو کیسا دکھ پہنچا تھا وگرنہ الفاظ سے نہیں کر سکتے۔ اسی طرح بظاہر ہمارا جلسہ بھی ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسے اور دنیا میں سینکڑوں جلسے ہوتے