خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 289

خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۳۱ء خیال کرنے لگے تھے ہمارے ذریعہ خدا تعالیٰ دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ ان پر عمل کرتے ہوئے بھی کامیابی ہو سکتی ہے۔ اگر ہم بھی زمانہ کی رو کے ساتھ بہہ جائیں تو ممکن ہے دشمن پر حملہ کر سکیں، اس کا سر پھوڑ سکیں بلکہ کسی کو جان سے بھی مار سکیں اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ قانون کی گرفت سے بھی بچ جائیں مگر ہمار اسلسلہ اس کے لئے قائم نہیں ہوا۔ دنیا میں پہلے بھی لوگ ایک دوسرے کو مارتے اور آپس میں سر پھوڑتے تھے مقدمات پہلے بھی چلتے تھے پہلے بھی کئی دفعہ حج یہ فیصلہ کر دیتے تھے کہ مارنے والا ظالم نہیں بلکہ دراصل مظلوم اور قانون کی گرفت سے باہر ہے لیکن جو چیز پہلے نہیں ہوتی تھی وہ یہ ہے کہ خدا رسول اور دین کے لئے قربانی نہیں کی جاتی تھی صبرو استقلال کا نمونہ نہیں دکھایا جاتا تھا۔ پس میں ان حالات کو مخالفانہ جوش کو اور اس کے نتائج کو خوب سمجھتا ہوں مگر کیا کروں قرآن کریم نے ابتداء میں ہی یہ تعلیم دی ہے اور جس جگہ رسول کریم میں ایم کے خلاف دشمنوں کی عداوتوں کا ذکر کیا ہے وہیں یہ گر بھی سکھایا ہے کہ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلُوةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُّلْقُوْا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رجعونا اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مسلمانوں کا یہ کام ہے کہ صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ استعانت کریں جس کے معنی یہ ہیں کہ صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ خدا کی مدد حاصل کی جائے۔ بعض لوگ کہتے ہیں رسول کریم میں سلیم نے مدافعت کی اجازت بھی تو دی ہے۔ میں مانتا ہوں بے شک دی ہے مگر کسی اصل کے ماتحت یہ نہیں کہ افراد کو جنگ کی اجازت دے دی ہو آپ میں ہم نے فرمایا ہے الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ ، یعنی امام ڈھال ہوتا ہے اور اس کے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے اس سے آگے ہو کر لڑائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ نہیں کہ انفرادی لڑائی کو جائز کر لو اور اپنے آپ ی DEFENCE کے لئے تیار ہو جاؤ ۔ یہ امام کا کام ہے کہ اس موقع کا فیصلہ کرے جب مدافعت جائز ہو بغیر اس کے یہی حکم ہے کہ صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل کرو۔ صلوۃ کے معنی دعا کے بھی ہیں اور محبت و شفقت کے سلوک کے بھی۔ جبھی ہم دعا مانگتے ہیں اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ الی الحمد للہ کے ساتھ محبت و شفقت کا ۔ کا سلوک کر یہ نہیں کہ آپ اللہ کے لئے دعائیں کر ۔ کیونکہ خدا سے بڑھ کر کونسی ہستی ہے۔ جس کے سامنے وہ دعا کرے اس لئے اس جگہ صلوٰۃ کے معنی فضل اور رحمت کے ہیں اور ہم درخواست کرتے ہیں کہ اے خدا محمد ام پر اپنے افضال اور رحمتیں نازل کر پس اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ میں بتایا لم