خطبات محمود (جلد 13) — Page 271
خطبات محمود ۲۷۱ سال ۱۹۳۱ء ہم تو صرف جگہ بدلتے ہیں ہر قربانی جو انسان دنیا میں کرتا ہے ضائع جاتی ہے لیکن جو قربانی خدا کے لئے کی جائے وہ بچ جاتی ہے۔ پھل لاتی ہے چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے۔ اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو ۔ جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔ ۳۰ قرآن کریم میں آتا ہے اس طرح یہ مال نہ صرف محفوظ رہتا ہے بلکہ ترقی بھی کرتا ہے اور اس قدر بڑھتا ہے کہ انسان اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا اسی ترقی کے متعلق رسول کریم مسلم نے فرمایا ہے مَا لَا عَيْنَ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَر یعنی نہ ہی کسی آنکھ نے قربانی کی اس ترقی کو دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا اور نہ ہی کوئی انسانی قلب اس کا قیاس کر سکتا ہے۔ پس وہ پیج جو اس جگہ بویا گیا جہاں وہ بڑھا اور لا محدود ترقی کی بہر حال اچھا ہے اس سے جو پتھروں پر ڈالا گیا۔ بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ ہم سے دین کے لئے قربانی کرائی جاتی ہے حالانکہ قربانی تو وہ پہلے ہی کرتے ہیں مسرف انسان اپنی جان بچاتا ہے اور روپیہ خرچ کرتا ہے بخیل جان خرچ کر کے روپیہ جمع کرتا ہے۔ قربانی تو بہر حال ہر انسان دنیا میں کرتا ہے مطالبہ تو صرف اتنا ہے کہ اپنے بیج کو پتھر پر نہ ڈالو بلکہ ہل چلی ہوئی زمین میں ڈالو جہاں وہ بڑھے اور ترقی کرے۔ اور ایسے مشورہ پر برا ماننا ایسا ہی ہے جیسا کہتے ہیں کہ کوئی بے وقوف شخص کہیں بطور مہمان گیا۔ میزبان روزانہ اسے اچھے اچھے کھانے کھلا تا نرم نرم بستروں پر سلاتا اور خوب اچھی طرح خاطر و تواضع کرتا جب وہ واپس گیا تو دیر کے بعد ملنے کی وجہ وجہ سے اس کی ماں رونے لگ گئی۔ اس پر اس نے کہا ماں جیسی مصیبتیں میں نے دیکھی ہیں خدا کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے روزانہ مجھے کیڑے کھلاتے تھے اور نیچے اوپر روئی ڈال کر کوٹتے تھے۔ پس جسے کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے مال ، عقل وقت جان خرچ کرے وہ اسے اگر اپنے اوپر زیبا اپنے اوپر زیادتی یا ظلم تصور کرتا ہے تو اس کی مثال بھی اس بیوقوف کی سی ہے جو پلاؤ کو کیڑے سمجھتا تھا۔ دنیا میں کون ایسا شخص ہے جو یہ چیزیں خرچ نہیں کرتا ہر ایک کرتا ہے ہم تو ہے ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ بیوقوفو پتھر پر دانے نہ پھینکو خدا نے جو کھیت تیار کیا ہے اس میں بو دو تا پھر بھی تمہاری یہ چیزیں تمہارے کام آسکیں۔ ذرا سوچو تو سہی کیا اس کا نام بوجھ یا قربانی ہے۔ اسے بوجھ سمجھنا تو ایسا ہی ہے جیسے کسی بھولے بھٹکے انسان کو راہ پر لگایا جائے اور وہ رونے لگ جائے ۔ اس مشورہ پر اعتراض کرنا یا برا منانا ایسا ہی ہے جیسے عیسائی کہتے ہیں شریعت