خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 247

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء ذات میں کام کرنے کے لئے کوشش کرنا ہی مفقود ہوتا ہے اور یادہ صحیح طریق اختیار نہیں کرتے جس کے بغیر کامیابی حاصل ہونا نا ممکن ہوتا ہے۔ پس چونکہ یا تو وہ جدوجہد نہیں کرتے یا ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن کے نیک نتائج پیدا ہونے نا ممکن ہوتے ہیں اس لئے کثرت تعداد کے باوجود معمولی تحریکیں بھی ان میں کامیاب نہیں ہوتیں ۔ ہاں اللہ تعالی کے فضل سے ہماری جماعت میں تنظیم نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے اور جماعت جس کام کے پیچھے پڑ جاتی ہے اور نیک نیتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے پڑتی ہے اسے کر لیتی ہے اور گو بعض دفعہ حالات مخالف بھی ہوتے ہیں مگر الہی نصرت انسانی تدابیر کی کمی کو پورا کر دیتی ہے۔ پس گو مسجد لندن کی مرمت کے لئے احمدی خواتین سے جو اپیل کی گئی ہے نہایت معمولی تحریک ہے مگر میں سمجھتا ہوں جب تک تمام جماعتیں منظم کوشش نہ کریں ممکن ہے کامیابی میں دیر لگ جائے ۔ ہماری جماعت کی عورتوں میں اللہ تعالی کے فضل سے اخلاص رکھنے والیوں کی کمی نہیں جیسا کہ مردوں میں بھی مخلصین کا ایک بہت بڑا حصہ موجود ہے۔ چنانچہ میں دیکھتا ہوں اس تحریک کے ساتھ ہی ایسی مثالیں سامنے آنی شروع ہو گئی ہیں جو نہایت ہی اعلیٰ اثر پیدا کرنے والی اور روحانیت کو ابھارنے والی ہیں۔ مثلاً ہماری جماعت میں سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب ایک نہایت ہی مخلص اور نہایت ہی قربانی کرنے والے آدمی ہیں وہ ذاتی طور پر اپنے اموال کا ایک بہت بڑا حصہ تبلیغ کے لئے ٹریکٹ اور رسالے شائع کرنے میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب ٹیچنگز آف اسلام یعنی ” اسلامی اصول کی فلاسفی " " ایکسٹریکٹ فرام ہولی قرآن" اور "احمد " جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں سے ہی اسلامی مسائل پر گہری روشنی ڈالی گئی ہے اور اسی طرح بعض اور رسائل اپنے ذاتی خرچ پر شائع کر چکے ہیں۔ اور ایک ایک کتاب کے چھ چھ سات سات ایڈیشن نکل چکے اور ہزاروں کی تعداد میں یہ کتابیں دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ ان کی اہلیہ کے متعلق جو اخلاص میں انہی کے رنگ میں رنگین ہیں اطلاع ملی ہے کہ وہ کئی سالوں سے اپنے جیب خرچ کی رقم سے کچھ نہ کچھ پس انداز کرتی آرہی تھیں اور اس وقت ایک ہزار روپیہ انہوں نے جمع کر لیا تھا مگر باوجود اس کے کہ میں نے بھی لکھا تھا کہ یہ اس قسم کی عظیم الشان تحریک نہیں جیسی مسجد لندن کی تعمیر کے لئے کی گئی تھی اور میں نے لکھا تھا تمام جماعتوں کی خواتین تھوڑا تھوڑا کر کے یہ بوجھ اٹھائیں اور جس قدر آسانی سے چندہ دے سکتی ہیں دیں اور باوجود اس کے کہ دوسروں نے