خطبات محمود (جلد 13) — Page 227
خطبات محمود ۲۲۷ سال ۱۹۳۱ء آرزو کی جاتی ہے کہ ہمیں بھی مباہلہ میں شامل کیا جائے اور یوں معلوم ہوتا ہے جس طرح پندرہ پندرہ دن کا بھو کا جب ایک روٹی دیکھے تو اس پر جھپٹتا ہے اسی طرح ہماری جماعت کے دوست بھی مدتوں سے انتظار کر رہے تھے اور وہ اس تلاش میں تھے کہ انہیں کوئی موقع ملے اور وہ اس میدان میں نکلیں۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مخالف فریق کی طرف سے تو یہ بحث ہو رہی ہے کہ ایک سے زیادہ کے ساتھ مباہلہ جائز بھی ہے یا نہیں اور یہاں یہ حال ہے کہ بعض جگہ سے مباہلہ میں شامل ہونے کے لئے تاریں آرہی ہیں اور وہ بھی ایسے الفاظ میں کہ گویا ایک حریص آدمی کے سامنے ایک مزیدار دعوت کا سامان رکھ دیا گیا ہے اور وہ بے اختیار کہہ رہا ہے کہ اس دعوت سے مجھے بھی محروم نہ رہنے دیا جائے۔ تاریں آرہی ہیں ، خطوط آرہے ہیں ، رجسٹری خطوط پہنچ رہے ہیں اور پھر ان میں لکھنے والے ایسی لجاجت اور خوشامد کے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ بعض دفعہ پڑھتے ہوئے یہ خیال آتا ہے کہ لکھنے والا آخر میں یہ کہنے والا ہے کہ مجھے سار اخزانہ دے دیا جائے۔ مگر لکھا یہ ہوتا ہے کہ خدا کے لئے مجھے اس مباہلہ سے محروم نہ رکھا جائے اگر ہٹانا بھی پڑے تو کسی اور کو ہٹا دیں مجھے نہ ہٹائیں۔ پھر نوجوانوں کی طرف سے الگ خطوط آرہے ہیں ، بڑھوں کی طرف سے الگ کئی بوڑھے ہیں جو لکھتے ہیں اگر چہ ہماری عمر ۷۰ ۷۵ سال کی ہو گئی ہے مگر عمریں خدا کے ہاتھ میں ہیں اس لئے مباہلہ میں شامل ہونے والوں میں ہمارا نام ضرور لکھا جائے۔ اور نوجوان لکھتے ہیں بڑھوں نے بہت خدمت کر لی ہے اب ہم نوجوانوں سے کام لیا جائے اور اس مباہلہ میں نوجوانوں کو ہی پیش کیا جائے۔ پھر عورتوں کی درخواستیں آرہی ہیں جن میں وہ لکھتی ہیں مرد ہم سے کوئی زیادہ حقدار نہیں کہ انہیں مباہلہ میں شامل ہونے کے لئے کہا گیا ہے اور ہمیں موقع نہیں دیا گیا۔ پھر بعضوں کے تو پہلے ہی شکایت نامے پہنچ گئے ہیں کہ قادیان والوں نے جب خطبہ سنا ہو گا تو فورا اپنا نام پیش کر دیا ہو گا اور اس طرح ہزار کی تعداد پوری ہو گئی ہو گی۔ قادیان والوں میں سے کوئی مباہلہ میں شامل نہ ہو سب کے سب باہر سے ہوں کیونکہ قادیان والے آگے ہی ہر تحریک میں سبقت لے جاتے ہیں۔ پھر کوئی یہاں تک کہہ رہا ہے کہ ان سب باتوں کو خدا پر چھوڑ دو قرعے ڈال لو جس کا نام نکلے اسے مباہلہ میں شامل کر لیا جائے اور جس کا نہ نکلے اس کا نہ شامل کیا جائے۔ غرض ان خطوط کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی صداقت پر ہماری جماعت کو ایسا یقین اور وثوق حاصل ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ پھر بعض تو یہ کہہ رہے ہیں کہ استخارہ کی شرط میں نے کیوں رکھی ہے۔ جب