خطبات محمود (جلد 13) — Page 18
خطبات محمود ۱۸ سال ۱۹۳۱ء تمام کھڑکیاں بند کر دی جاتیں اور منزل پر پہنچ کر پھر اسی طرح اسے اتارا جاتا۔ اس وقت کے خیال آسکتا تھا۔ کہ اس حالت میں کبھی تغیر ہو جائیگا۔ مگر آج دیکھو ہزاروں میل سے ایک وباء آتی ہے اور اس کے ماتحت وہ ہندوستانی عورتیں جن کی نانیاں اور دادیاں ڈولی میں اپنے گھر میں آئیں اور پھر وہاں سے ان کے تابوت نکلے آج بے تکلفی سے مردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سڑکوں پر پھر رہی ہیں۔ اس وقت ہندوستانی مسلمان خیال کرتے تھے کہ ہم بالکل محفوظ ہیں کیونکہ اپنی رسوم اور رواج کو چھوڑنے کا کوئی خیال ہمارے دل میں نہیں مگر یہ کس طرح ممکن تھا کہ ایک انسان دوسرے سے اثر قبول نہ کرتا۔ جس طرح ہزاروں میل سے آئے ہوئے بادل اور نڈی فصل کو تباہ کر دیتی ہے اسی طرح ہزاروں میل سے آئے ہوئے خیالات بھی ہمارے خیالات کو تباہ کر سکتے ہیں اور جب تک ہم ایک ایسا دائرہ نہ بنالیں جس سے کوئی چیز گذر نہ سکے ہم محفوظ نہیں رہ سکتے۔ یہ دائرے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک آسمانی اور ایک زمینی - آسمانی دائرہ تو یہ ہے کہ قریب کے زمانہ میں مامور کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہو یا اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والوں کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہو یا ان کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والوں سے تعلق پیدا کیا جائے یہ آسمانی دائرہ ہے جس میں آجانے والی جماعتیں باوجود شرارت اور بدی کی فراوانی کے زیادہ تر محفوظ رہتی ہیں اور اللہ تعالی ان کی دستگیری فرماتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو آج ساری دنیا میں جو فسادات پھیل رہے ہیں احمدی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ان سے محفوظ ہے۔ ہم دوسرے لوگوں سے علم میں بڑھے ہوئے نہیں مگر وہ دہریت کی رو میں ایسے بے جا رہے ہیں کہ گویا وہ ایک ایسا پودا ہیں جس کی جڑیں نہیں اس کے مقابلہ میں احمدی جماعت میں بھی بے شک بعض کمزوریاں ہیں مگر پھر بھی وہ نمایاں طور پر ممتاز نظر آتی ہے۔ اور بہت ساری ہوائیں جو دنیا کو تباہ کر رہی ہیں احمدی جماعت محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام سے تعلق کی وجہ سے ان سے الہی حفاظت میں ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِم یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک نہیں کرے گا جس حالت میں کہ اے رسول تو ان میں ہے۔ اور نبی کے قرب کا زمانہ بھی اس کے ہونے کا ہی ہوتا ہے اور اس کی جماعت سے تعلق رکھنے والے اس کی خاص حفاظت میں ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر عذاب عقیدہ کی خرابی ہے اس کے مقابلے میں کوئی بھی عذاب کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ ایک شخص طاعون سے مرکز بھی جنت میں جاسکتا ہے مگر دہریت کی رو میں بہہ کر جو مرتا ہے اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ اور جب تک اس ہسپتال میں رہ کر اس کی صفائی نہ ہو جائے اس وقت