خطبات محمود (جلد 13) — Page 215
خطبات محمود ۲۱۵ سال ۱۹۳۱ء مباہلہ ہو جاتا ہے اور یہ ممنوع نہیں ۔ مگر اصل مباہلہ رہی ہے جو بڑی جماعتوں کے درمیان ہو۔ تا اس کا ایسا نمایاں نتیجہ پیدا ہو جس میں شکوک و شبہات کی قطعاً گنجائش نہ ہو ۔ پس میرا منشاء یہ ہے کہ اگر ان کا چیلنج نیک نیتی پر مبنی ہے اور اس میں ان کے مد نظر کوئی ایسی بات نہیں جو فتنہ اور فساد کا موجب ہو تو میں ان کے چیلنج کو قبول کرلوں۔ اور ان سے خواہش کروں کہ وہ اپنی جماعت میں سے ایک ہزار آدمی مباہلہ کے لئے تیار کریں۔ اسی طرح ایک ہزار آدمی مباہلہ کے لئے ہماری جماعت میں سے نکلے۔ اور سب کے نام شائع کر دیئے جائیں تا اس مباہلہ کا اثر کسی رنگ میں بھی مشتبہ نہ رہے۔ کیونکہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ہمیشہ خارق عادت طور پر ظاہر ہوتے ہیں پھر بھی دشمن ان میں سے اعتراض کا پہلو نکال ہی لیتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم سلام کے دشمنوں پر اگر چه خارق عادت عذاب آئے مگر پھر بھی لوگ اعتراض ہی کرتے رہے۔ لیکن اگر یہی خارق عادت سینکڑوں نشانات اکٹھے ہو جائیں تو اس صورت میں ان نشانات کا عظیم الشان اثر ہوتا ہے۔ پس میں اعلان کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے وہ دوست جو یقین اور وثوق اور اپنے مشاہدہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام پر ایمان لا چکے ہیں وہ استخارہ کرنے کے بعد اس مباہلہ کے لئے اپنا نام پیش کریں تا ایک ہزار کی فہرست فریق مخالف کے پاس چلی جائے اور ان سے بھی مطالبہ کیا جائے کہ وہ اپنی جماعت میں سے ایک ہزار آدمی کی فہرست ہمارے پاس بھیج دیں۔ فرقہ اہلحدیث ہماری جماعت سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے سے قائم ہے بلکہ وہ تو یہی کہتے ہیں کہ ہم شروع سے ہی چلے آتے ہیں۔ خواہ کچھ ہو اس جماعت کے افراد ہماری جماعت سے بہت زیادہ ہیں۔ اور اگر وہ ذرا بھی کوشش کریں تو ان کے لئے ایک ہزار آدمیوں کا اکٹھا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر وہ اپنی جماعت میں سے ہزار آدمی اس مباہلہ کے لئے اکٹھے نہ کر سکیں تو ہم انہیں پانچ سو یا چار سو کی بھی اجازت دیدیں ۔ مگر ہماری طرف سے ایک ہزار آدمی ہی مباہلہ میں پیش ہوں گے۔ تا یہ مباہلہ نمایاں حیثیت رکھتا ہو اور اس میں شک اور شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ اگر مباہلہ میں دوسری طرف صرف ایک آدمی ہی پیش ہو تو عذاب تو اس پر بھی آسکتا ہے لیکن اگر وہ مر بھی جائے تو کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی عمر ختم ہو گئی آخر ایک دن اسے مرنا ہی تھا پس یہ عذاب نہیں بلکہ اتفاق ہے ۔ لیکن اگر دوسری طرف سے ایک ہزار آدمی مباہلہ کے لئے آئیں اور ان میں سے کثیر حصہ کو اللہ تعالیٰ ایسا سمجھے کہ اس پر اتمام حجت ہو چکی ہے اور پھر ان میں سے پانچ سویا سات سو پر ایسی حالت طاری ہو جائے جو صریح عذاب کی حالت ہو تو لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوں