خطبات محمود (جلد 13) — Page 205
خطبات محمود ۲۰۵ سال ۶۱۹۳۱ تھا۔ اس نے اسے پالا تھا یا کسی مصیبت کے وقت اس پر احسان کیا تھا۔ اس وجہ سے وہ اس کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ یہ گویا ایک حکایت ہے جو حقیقت بیان کرنے کی غرض سے بنائی گئی ہے۔ اگر چہ ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ آدمی ریچھ وغیرہ جانوروں کو پال کر اپنے ساتھ ہلا لیتا ہے۔ مگر جب میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام سے کوئی حکایت روایت کرتا ہوں تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ یہ حقیقت بیان کرنے کی غرض سے ایک قصہ ہے یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ تا دشمن یہ اعتراض نہ کرے کہ یہ ایسے بے وقوف لوگ ہیں کہ سمجھتے ہیں ریچھ انسانوں کے پاس آکر بیٹھتے ہیں۔ یہ پرانی حکایتیں سبق حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں اور ان سے مراد ایسے خصائل رکھنے والے انسان ہوتے ہیں۔ مثلا پرانی حکایتوں میں بادشاہ کے دربار کو شیر کا دربار اور اس کے امراء ووزراء کو دوسرے جانوروں کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا اور اس طرح وہ بادشاہ بھی جس کے متعلق بات ہوتی نہایت مزے لے لے کر پڑھتا۔ خیر تور پیچھے اس آدمی کا دوست تھا اور اس کے پاس آتا تھا۔ ایک دن اس کی والدہ بیمار پڑی تھی اور وہ پاس بیٹھا پنکھ ہلا رہا اور لکھیاں اُڑا رہا رہاتھ تھا۔ اتفاق سے کسی ضرورت کے لئے باہر جانا پڑا اور اس نے ریچھ کو اشارہ کیا کہ تم ذرا لکھیاں اُڑاؤ میں باہر ہو آؤں۔ ریچھ نے اخلاص سے یہ کام شروع تو کر دیا مگر انسان اور حیوان کے ہاتھ میں فرق ہوتا ہے۔ اور حیوان ایسی آسانی سے ہاتھ نہیں ہلا سکتا جتنی آسانی سے انسان بلا سکتا ہے۔ وہ مکھی اُڑائے لیکن وہ پھر آبیٹھے پھر اُڑائے پھر آبیٹھے۔ اس نے خیال کیا مکھی کا بار بار آکر بیٹھنا میرے دوست کی ماں کی طبیعت پر بہت گراں گزرتا ہو گا۔ چنانچہ اس کا علاج کرنے کے لئے اس نے ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور اسے دے مارا تا مکھی مر جائے۔ مکھی تو مرگئی مگر ساتھ ہی اس کے دوست کی ماں بھی کچلی گئی۔ یہ ایک مثال ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض نادان کسی سے دوستی کرتے ہیں مگر دوستی کرنے کا ڈھنگ نہیں جانتے۔ وہ بعض دفعہ خیر خواہی کرتے ہیں مگر ہوتی دراصل تباہی ہے۔ اگر اپنے دوست کے سچے خیر خواہ ہوتے تو بے ایمانی کی طرف نہ لے جاتے بلکہ اگر اسے اس طرف مائل بھی دیکھتے تو اسے روکتے ۔ رسول کریم میں ہم نے دوستی کا نقشہ کیا خوب کھینچا ہے۔ فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم - صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ملی ہم یہ کیا بات ہے کیا ہم ظالم کی مد بھی کیا کریں۔ آپ نے فرمایا جب تو الم کا ہاتھ ظلم سے روکے تو تواس کی مدد کرتا ہے کہ گویا فرمایا اصل مدد کے معنی یہ نہیں کہ کسی کی منشاء کے مطابق چلتے جاؤ بلکہ یہ ہیں کہ اس کے فائدہ کے لئے اس کے خلاف بھی چلنا پڑے تو چلو اور بجائے اس کے کہ اس کے ساتھ مل کر ہے ظا