خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 196

خطبات محمود 194 سال ۱۹۳۱ء کے یہی وجہ ہے کہ ۹۵ فیصدی مسلمان جس سکیم کے سخت مخالف ہیں وہ اس کی تائید کرتے اور ملک میں غداری کرتے پھرتے ہیں۔ یہ غداری تو پیشاب ۔ تو پیشاب سے بھی بدتر ہے کیونکہ پیشاب کا پینا تو پھر بھی بیماری میں جائز ہو سکتا ہے۔ فقہاء نے ضرور تا شراب کو بھی جائز رکھا ہے۔ جب ضرور تا شراب پینا جائز ہو سکتا ہے تو پیشاب کا استعمال بھی کسی وقت جائز سمجھا جا سکتا ہے مگر قومی غداری دھوکا اور فریب تو کبھی اور کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوتا۔ پس وہ لوگ جو دھوکا اور فریب کے عادی ہیں وہ گائے کا پیشاب اگر ایک دفعہ نہیں ہزار دفعہ بھی پی لیں تو ان کے متعلق تعجب نہیں ہو سکتا اور منہ سے تو شاید اب بھی وہ گاندھی جی سے یہی کہتے ہوں کہ حضور ہم گائے کا پیشاب کیا پا خانہ بھی کھانے کے لئے تیار ہیں کیونکہ ان کا مقصد محض گاندھی جی کی خوشنودی ہے۔ یا د رکھنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل میں گاندھی وغیرہ کی کچھ بھی حقیقت نہیں حضرت مسیح مسیح موعود علیہ الصلوة وال ة والسلام خدا کی طرف سے مامور ہو کر آئے امور ہو کر آئے پس جو بھی آپ ۔ مقابل پر اٹھے گا خواہ وہ گاندھی ہو یا کوئی اور اللہ تعالی اسے یوں کچل ڈالے گا جس طرح ایک جوں مار دی جاتی ہے۔ نادان کہتے ہیں کہ گاندھی جی نے انگریزوں کو ہرا دیا۔ اول تو یہ بات ہی غلط ہے لیکن پھر بھی اگر گاندھی جی انگریز کیا ساری دنیا کو بھی ہرا دیں تب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقابل میں اس کی کچھ حیثیت نہیں کیونکہ گاندھی جی کی فتوحات لوگوں کو خوش کر کر کے ہوئیں۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کو ناراض کر کے جیتا۔ یہاں تک کہ دنیا کا ایک معتد بہ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدموں میں آگرا اور ابھی کیا ہے دنیا دیکھے گی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کس طرح مخلوق اکٹھی ہوتی ہے اور ایسا ہو گا کہ ان مخالفین کی اولادیں یا تو ان کی طرف اپنے آپ کو منسوب ہی نہیں کریں گی یا پھر ان پر لعنتیں بھیجیں گی ۔ گاندھی جی اور ان کی تحریکیں ہستی ہی کیا رکھتی ہیں اس خدا کے جرنیل کے مقابل میں جو دنیا کا نجات دہندہ بن کر آیا ۔ پھر گاندھی جی تو اسلامی تعلیم پر بھی اعتراض کرتے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ میرا عقیدہ ہے کہ دفاع میں بھی جنگ جائز نہیں۔ اس طرح کیا وہ رسول کریم میں پر یہ اعتراض نہیں کرتے کہ گویا نعوذُ بِاللهِ ذ باللہ آپ مسلم نے اندفاعی جنگیں کر کے برا کام کیا۔ پس ایسے شخص کی تعریف کرنا دراصل رسول کریم سر کی علانیہ ہتک کرنا ہے مگر مونہہ سے مسلمان کہلاتے ہوئے اس شخص نے گاندھی جی کی تعریف کی جو مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں