خطبات محمود (جلد 13) — Page 194
خطبات محمود ۱۹۴ سال ۱۹۳۱ء سلم نے فرمایا ہے اپنے اپنے امیر کی اطاعت اطاعت کرو : رو جب رسول کریم اللہ کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے فرمایا اگر تم آگ میں کود پڑتے تو خود کشی کرتے کیونکہ جہاں کسی حکم کے متعلق شریعت کی نصوص بینہ موجود ہوں وہاں اگر ان کے خلاف حکم دیا جائے تو اس حکم میں اطاعت فرض نہیں ہوتی۔ مگر باوجود اس کے اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم میں ولیم اس قدر اطاعت پر زور دیا کرتے تھے کہ آپ نہیں بلکہ آپ کے مقرر کردہ امیر کے حکم پر بھی صحابہ کی جماعت میں سے ایک حصہ باوجود یہ جانتے ہوئے کہ خود کشی حرام ہے آگ میں کود پڑنے کے لئے تیار ہو گیا۔ پس اطاعت امیر کوئی معمولی بات نہیں۔ جماعت کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ ایک نظام کے ماتحت رہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ پہلے دو دن بٹالہ میں کوئی خاص انتظام نہ تھا جس کی وجہ سے بعض لوگ شہر میں پھرتے رہے اور اس وجہ سے جلسہ میں حاضری بھی کافی نہ تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں پر مختلف امراء کا تقرر نہ کیا گیا تھا۔ اگر مختلف ٹولیوں میں لوگوں کو تقسیم کر کے ہر ٹولی کا ایک علیحدہ امیر بنا دیا جاتا اور لوگ جہاں بھی جاتے اپنے امیر سے اجازت لے کر جاتے اور پھر وہ سارے امراء اس امیر الجیش کے ماتحت ہوتے جو یہاں سے مقرر کیا گیا تھا تو کبھی اس طرح پراگندگی واقع نہ ہوتی۔ پس آئندہ کے لئے جماعت کو چاہئے کہ وہ امیروں کی بھی اطاعت کرے اور امیر الامراء کی بھی ۔ مگر بہر حال اگر ہماری جماعت کی طرف سے کوتاہیاں بھی ہو ئیں تب بھی خدا کا شکر ہے کہ دشمنوں پر ایسا رعب بیٹھا کہ باوجود مباحثہ کے لئے بار بار بلانے کے وہ اپنے گھروں سے نہیں نکلے ۔ یہ احمدیت کی ایسی نمایاں فتح ہے کہ اگر ان میں ذرا بھی شرم و حیا ہوئی تو وہ آئندہ احمدیوں کو مناظرہ کا چیلنج نہیں دیں گے ۔ ہمارے دشمنوں نے اس جلسہ کے متعلق بعض عجیب و غریب باتیں شائع کرائی ہیں۔ ایک اخبار میں میں نے پڑھا اور مجھے پڑھ کر ہنسی آئی کہ چار ہزار احمدی نیزوں، تلواروں ، بلموں اور ہتھیاروں سے مسلح ہو کر بٹالہ پر حملہ آور ہوئے اور شہر میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔ ہمارے متعلق تو جو خبر انہوں نے شائع کرائی وہ بہر حال جھوٹی ہے۔ مگر اپنے متعلق جو انہوں نے لکھا وہ جھوٹی نہیں ہو سکتی اور اس سے ظاہر ہو گیا کہ احمدیوں کے جانے پر ان پر سخت خوف و ہراس طاری ہو گیا تھا۔ پس یہ کتنا بڑا خدا کا فضل ہے کہ آپ لوگ قلیل تعداد میں وہاں جاتے ہیں اور پھر بعض سے کوتاہیاں بھی سرزد ہوتی ہیں مگر تمہیں ہزار کی آبادی کا شہر ڈرنے لگتا ہے اور ڈرتا بھی کس سے ہے خدائے واحد کے مسیح احمد کی بھیڑوں ۔ زوں سے جس کی بھیڑوں سے جو لوگ ڈر گئے وہ اس کے شیروں کے مقابل کس طرح آسکتے ہیں۔ احمد یہ جماعت کا