خطبات محمود (جلد 13) — Page 188
خطبات محمود ۔ ۱۸۸ سال ۱۹۳۱ء کرتے ہیں۔ ایک تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر کوئی کسی چیز کو دنیا میں اپنا مقصود بناتا ہے اور تم خیرات کو اپنا مقصود بناؤ ۔ لیکن دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ ہر شخص اپنا کوئی نہ کوئی مقصد بنائے بیٹھا ہے اور خیرات سے غافل ہے۔ باقی دنیا بھی مذہب کے پیچھے لگی ہوئی ہے مگر اس کا مقصد خدا تعالی کی رضامندی حاصل کرنا نہیں۔ پس یہ میدان خالی ہے اس لئے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ تم ہمت کرو اور اس میدان میں آگے بڑھ جاؤ ۔ خیرات کا میدان ہمیشہ انبیاء کی جماعتوں کے لئے خالی ہوتا ہے۔ نبی اس وقت آتے ہیں جب حقیقی نیکی دنیا سے مفقود ہو جاتی ہے۔ عادت کے ماتحت نماز روزہ زکوۃ یا حج نیکی نہیں بلکہ نیکی وہ ہے جو خداتعالیٰ کی رضاء کے حصول کے لئے سوچ سمجھ کر کی جائے اور یہی وقت ہمیں نصیب ہوا ہے۔ ساری دنیا اپنے اپنے کام میں لگی ہوئی ہے۔ حضرت مسیح ८ موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہر کے با کار خود بادین احمد کار نیست پس یہ موقع ہے اس نیکی کے مقام کو حاصل کر لو جس سے باقی لوگ غافل ہیں اور اسے حاصل کرنے کا ایک عمدہ ذریعہ تہجد ہے اور اس کا جو طریق میں نے بتایا ہے اس سے ست لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یعنی جمعہ کی رات ہر احمدی تہجد کے لئے اٹھے اور ہر شہر اور ہر قریہ اور ہر محلہ میں ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں جو دوستوں کو اس کے لئے جگا میں جیسے رمضان میں جگاتے ہیں۔ ایک دوست غلام قادر سیا لکوٹی ہیں بے چارے غریب آدمی ہیں کیونکہ ان کا پیشہ اچھی طرح نہیں چلتا مگر ہیں مخلص ۔ وہ رمضان کی راتوں کو بارہ بجے سے ہی پیپہ لے کر لوگوں کو جگانا شروع کر دیتے ہیں۔ پس اگر اسی طرح ہر جگہ ایسا انتظام کیا جائے کہ کچھ دوست اپنے شہر یا محلہ یا نصف محلہ کے لوگوں کو جگا دیا کریں یعنی وہاں رہنے والے ایسے لوگوں کو جن کے پاس خود جاگنے کے سامان نہیں۔ جن کے پاس الارم والی گھڑیاں ہیں یا نوکر ہیں یا جو بورڈ نگ وغیرہ میں کسی ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں کسی نہ کسی کو جاگ آہی جاتی ہے ایسے لوگوں کو چھوڑ کر باقی لوگوں کو جو ممکن ہے خود بخود نہ جاگ سکیں اور جن کے پاس سامان بھی نہ ہوں ان کو اگر تعاون کر کے جگا دیا جائے تو دعاؤں کی بہت کثرت ہوگی۔ جو لوگ اس وقت اٹھیں گے وہ اگر کچھ بھی نہ کریں تو بھی دس پانچ اچھے فقرے تو منہ سے ضرور ہی نکالیں گے اور لاکھوں احمدیوں کے ایسے کروڑوں فقرے جمع ہو کر عرش الہی کو ہلا دیں گے۔ پس جماعت اس بلوغت پر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت پر چالیس سال