خطبات محمود (جلد 13) — Page 175
خطبات محمود ۱۷۵ سال ۱۹۳۱ء پس جہاں چالیس سال پورے ہونے پر ہمیں خوشی ہے کہ باوجو د دشمنوں کی کوششوں کے خدا تعالی نے سلسلہ کو زندہ رکھا اور نہایت اعلیٰ مقام پر پہنچایا۔ لوگ چاہتے تھے کہ یہ حمل گر جائے مگر حمل نہ گرا۔ پھر وہ چاہتے تھے اس روحانی بچہ کو ہلاک کر دیں مگر اس میں بھی انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ پھر وہ زمانہ بھی ہم نے دیکھا جب مسیحیت کے زمانہ میں لوگوں نے پھانسی پر لٹکانا چاہا مگر خائب و خاسر رہے۔ پھر وہ زمانہ بھی آگیا جب موسوی اور آنحضرت مسلم کے زمانہ کے ابتلاؤں سے ہمیں گزرنا پڑا۔ اب اگر ہم حقیقی طور پر مومن ہیں اور خدا تعالی کی قدرتوں اور طاقتوں پر سچا ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اب نہ صرف بلوغت بلکہ بلوغت کاملہ کی زندگی میں حاصل ہو۔ کو چالیس سالہ عمر بلوغت کاملہ کا ظہور ہے مگر ایک بلوغت روحانیہ کا زمانہ چالیس سے پچاس سال بلکہ تریپن سال تک کا بھی ہے اور میں دیکھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت ترین سال کی عمر کے قریب قریب بنتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا کا دع دعوی اعلان ا دعوی دعوا کے لحاظ سے بہر ر حال حال ۵۰ ۵۰ سال سے اوپر کا ہے۔ اور اگر الہامات کے زمانہ کو شامل کر لیا جائے تو اس وقت آپ کی ۴۵٬۴۴ سال کی عمر بنتی ہے۔ پس یہ بھی بلوغت کا ایک زمانہ ہے جو پچاس سال کے قریب آتا ہے اور یہ ایک قسم کی جو بلی ہے کیونکہ پچاس سال کسی کا عمر پا جانا بڑی خوشی کی بات ہوا کرتی ہے۔ مگر پہلی بلوغت چالیس سالہ ہے اور ہمیں سب سے پہلے اس بلوغت کے آنے پر اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ باوجو د دشمنوں کی کوششوں کے ہماری جماعت چالیس سال کی عمر تک پہنچ گئی اور میں سمجھتا ہوں ہمیں خاص طور پر اس تقریب پر خوشی منانی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ اگر بندہ اس کی نعمت پر خوشی محسوس نہیں کرتا تو وہ نعمت اس سے چھین لی جاتی ہے اور اگر خوشی محسوس کرنے اور اللہ تعالٰی کی حمد کرے تو زیادہ زور سے اللہ تعالیٰ کے فیضان نازل ہوتے ہیں۔ پس میرا خیال ہے ہم کو اس سال چالیس سالہ جوبلی منانی چاہئے یعنی اس بات کی خوشی میں کہ سلسلہ احمدیہ نے اپنی روحانی بلوغت حاصل کرلی ہے یہ بھی کیا جائے کہ مقررہ تاریخوں پر جلسے منعقد کئے جائیں۔ اور ان جلسوں میں سلسلہ کے حالات اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے واقعات خصوصیت سے سنائے جائیں۔ مگر سب سے بڑی جو بلی یہ ہے کہ ہم سالِ حال تبلیغ کے لئے مخصوص کر دیں اور اتنے جوش اور زور کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہو جائیں کہ ہر جماعت اپنے آپ کو کم از کم دو گنی کرے ۔ یہ جو بلی ایسی ہو گی جو آئندہ نسلوں میں بطور یاد گار رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے