خطبات محمود (جلد 13) — Page 172
خطبات محمود ۱۷۲ سال ۱۹۳۱ء پورے چالیس سال اس دعوئی پر گزر گئے گویا سلسلہ احمدیہ نے اپنی بلوغت پالیا۔ لوگ کہتے تھے اس بچہ کو ہم پیدا ہی نہیں ہونے دیں گے۔ پھر لوگ کہتے تھے اگر یہ پیدا ہو بھی گیا تو ہم اس کا گلا گھونٹ دیں گے جیسے فرعون نے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کے بچوں کا گلا گھونٹ دو مگر یہ دو سرا درجہ تھا۔ ان کی پہلی کوشش یہ تھی کہ یہ بچہ پیدا ہی نہ ہو اور یہ حمل جو روحانی حمل ہے گر جائے۔ اس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس الہام میں اشارہ ہے کہ يُرِيدُونَ أَنْ يَرَوْا طَمَتَكَ وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُرِيكَ أَنْعَامَةَ الْإِنْعَامَاتِ الْمُتَوَائِرَةَ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ اولادی کے یعنی لوگ تیرا حیض دیکھنا چاہتے ہیں مگر خد اتعالیٰ تجھے انعامات دکھائے گا جو متواتر ہوں گے۔ اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے ۔ نادان اس پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ اس کے معنے یہ تھے کہ جس طرح حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا اسی طرح دنیا میں اب ایک روح اب ایک روحانی بچہ پیدا ہونے والا ہے مگر لوگ چاہتے ہیں وہ روحانی حمل گر جائے اور پھر دنیا میں حیض ہی حیض پھیل جائے ۔ مگر فرمایا ۔ ایسا نہیں ہو گا بلکہ روحانیت کے نشوز اور نشوز کا جو بچہ ہے ہم اسے قائم رکھیں گے اور اپنے وقت پر اسے دنیا میں پیدا کریں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس روحانی حمل سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ دنیا نے پھر چاہا کہ اس بچے کو فنا کر دے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو الہام میں بتایا گیا کہ آپ کے کئی دشمن فرعون ہیں۔ فرعون کی یہی کوشش تھی کہ بنی اسرائیل کے بچوں کو فنا کر دے مگر خداتعالی نے ان کوششوں میں ان لوگوں کو ناکام رکھا۔ پس مخالفین کی پہلی کوشش تو یہ تھی کہ اس بچہ کی ولادت ہی نہ ہو مگر جب اس کوشش میں انہیں کامیابی حاصل نہ ہوئی اور وہ بچہ پیدا ہو کر طفل بن گیا تو اس وقت چاہا کہ اسے ہلاک کر دیں اور اس کا گلا گھونٹ دیں مگر خدا خدا نے بتایا تھا یہ بچہ جوانی کو پہنچے گا اور بچپن میں نہیں مارا جائے گا۔ چنانچہ وہ زمانہ آیا جب طفولیت سے نکل کر سلسلہ نے جوانی کی طرف اپنا قدم بڑھایا ۔ اس وقت بھی اس کے دشمن دنیا میں موجود تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے وہی سامان کیا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق کیا تھا۔ یعنی وہ ہاتھ جو شیطان کی طرف سے اٹھ کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہلاک کرنا چاہتا تھا اس کی بجائے خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے ہاتھ اٹھایا اور اس کے ذریعہ سے انہیں ہلاکت سے بچالیا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پیشگوئی تھی کہ حضرت اسماعیل کے مقابلہ میں ان کے بھائیوں کی تلوار ہمیشہ اٹھی رہے گی۔ پس اس ابتلاء سے بچانے کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ راہ نکالی کہ خود اپنے ہاتھ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ