خطبات محمود (جلد 13) — Page 153
خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۱ء ضرورت ہوتی ہے اور وہ بغیر اچھے گھوڑے کے اپنے کمال کا اظہار نہیں کر سکتا۔ پس اسی طرح اگر چہ یہ صحیح ہے کہ خلافت کے بغیر سلسلہ کی ترقی نہیں ہو سکتی مگر خلیفہ کو جب تک اخلاص رکھنے والے اور قربانی کرنے والے کارکن نہ ملیں خلافت بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ خلافت کی مثال گاڑی بان کی ہے اور لوگوں کی مثال گھوڑوں کی۔ جس طرح بغیر اچھے گھوڑوں کے گاڑی نہیں چل سکتی اور بغیر گاڑی بان کے گھوڑے بھی نہیں چل سکتے اس طرح ضروری ہے کہ سلسلہ میں خلافت حقہ قائم رہے مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے لوگ بھی پیدا ہوتے رہیں جو دین کے کام کو اپنی ضروریات سے بہت زیادہ اہم خیال کریں۔ ایسے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام مشکلات کا جو ان کے سامنے ہوں اندازہ لگائیں اور ان کے مطابق اپنی حفاظت کا انتظام کریں۔ ایک جرنیل اسی وقت ہو شیار اور کامیاب جرنیل سمجھا جاتا ہے جب وہ دشمن کی فوج کی خبر رکھے اور پتہ لگاتا رہے کہ مقابلہ میں کتنی فوج ہے کہاں کہاں پڑی ہے اور کہاں کہاں سے حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہماری جماعت بھی اسی وقت اپنے مقصد میں کامیاب ہو گی جب اپنے دشمنوں کی تیاریوں کی خبر رکھے گی ان کی نقل و حرکت سے آگاہ رہے گی اور پھر مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کرے گی۔ نهایت خطرناک نقص ہماری جماعت میں یہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ سمجھتی ہے ہم بالکل مامون ہیں اور ہمیں کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ سوائے ان نیم مجنونوں کے جو ہر شخص کو اپنادشمن سمجھنے لگتے ہیں جو عقلمند ہیں اور جنہیں اپنے حقیقی دشمن کا پتا ہونا چاہئے وہ بھی اپنے دشمنوں کا علم نہیں رکھتے۔ میں اسے ان کی حسن ظنی پر محمول نہیں کرتا بلکہ اس بارے میں طبیعت میں عدم میلان کی وجہ سے یا صحیح طور پر سلسلہ کی ترقی کے لئے جن امور کا علم حاصل ہونا ضروری ہے ان سے ناواقفیت کی وجہ سے وہ اپنے دشمنوں کی سرگرمیوں سے آگاہ رہنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ جس طرح رسول کریم کے بیرونی دشمن تھے اسی طرح اندرونی دشمن بھی تھے اور جس طرح وہاں دشمن اور منافق پائے جاتے تھے اسی طرح ہماری جماعت میں بھی ہیں۔ پھر جس طرح اس وقت ہر مذہب اسلام کے مقابل کھڑا تھا اور ابراہیمی پیشگوئی کے مطابق اسماعیل کے بھائیوں کی تلوار اس کے سامنے کچھی ہوئی تھی اسی طرح ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی تمام فرقوں میں سے ایک حصہ کی تلوار آپ کی جماعت کے مقابل پر کھچی ہوتی۔ خواہ وہ دشمن سکھوں میں سے ہوں یا ہندوؤں اور عیسائیوں میں سے ۔ پھر جس طرح رسول کریم ملی یک سلیم