خطبات محمود (جلد 13) — Page 151
خطبات محمود بھی پیدا کئے جاتے ہیں۔ ۱۵۱ سال ۱۹۳۱ء دوسرا ہم رسول کریم اللہ کی زندگی کا اگر پہلے انبیاء کی زندگیوں سے مقابلہ کر کے دیکھیں اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا بعض اور انبیاء کی زندگی سے مقابلہ کریں یا حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کا ان کے قریب کے نبیوں کی زندگی سے مقابلہ کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جتنا بڑا کوئی رسول ہوا اتنے ہی زیادہ ابتلاء اور مشکلات اس کے کے سامنے پیش آئے۔ پس اگر ہم یہ صحیح طور پر سمجھتے ہیں اور اس میں ہمارے نفسوں کا دھوکا یا غلطی نہیں کہ ہماری جماعت کے ذمہ ایسا عظیم الشان کام ہے جو رسول کریم میم کے ماننے والوں کے علاوہ کسی اور کے سپرد نہیں ہوا اور دراصل یہ سلسلہ ہے ہی رسول کریم میل کے سلسلہ کی شاخ اور آپ کی بعثت کا دو سرا ظهور تو لازما دو سرا ظهور اپنی مشکلات کے لحاظ سے پہلے ظہور کے مشابہ ہونا چاہئے اور سرا ظہور اپنی مشکلات میں پہلے ظہور کے مشابہ ہے اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ دو سرا ظہور اپنی مشکلات اور مصائب میں پہلے ظہور سے بڑھ کر ہے یا پہلا ظہور دوسرے ظہور سے اپنی مشکلات میں بڑھا ہوا تھا۔ بلکہ دونوں آپس میں مشابہ ہیں اور ایسے مشابہ کہ ایک ماں کے توام بچے بھی آپس میں ایسے مشابہ نہیں ہوتے ۔ تو ام بچے پھر دو ہوتے ہیں مگر الہی سلسلے ہمیشہ ایک ہی کہلاتے ہیں دو نہیں ہوتے ۔ پھر تو ام بچوں کے جسم جدا ہوتے ہیں اور روح بھی جداگر الہی سلسلوں کے جسم تو دو ہوتے ہیں مگر روح ایک ہی ہوتی ہے۔ پس ہم نہیں کہہ سکتے کہ رسول کریم مسلم کے زمانہ کے لوگوں کو اس زمانہ کے لوگوں کی نسبت زیادہ کام تھا۔ یا ان کے راستہ میں زیادہ مشکلات اور زیادہ روکیں تھیں اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس زمانہ کے لوگوں کو زیادہ کام ہے یا ان کے راستہ میں ان سے زیادہ روکیں ہیں کیونکہ دونوں ایک ہی قسم کے سلسلے ہیں۔ ان دونوں کی جڑھ ایک ہی ہے مگر شاخیں مختلف ہیں۔ پس دونوں سلسلے اپنی مخالفت اور ان روکوں میں جو دشمنوں کی طرف سے پیدا کی جاتی ہیں ۔ آپس میں مشابہ ہیں۔ اگر ہم یہ تسلیم کریں اور یقینی طور پر تسلیم کریں اور ایمان رکھیں کہ ہم رسول کریم مسلم کی امت ہیں ہم میں اور صحابہ میں کچھ فرق نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود علیحدہ وجود نہیں بلکہ رسول کریم میم کا ہی وجود ہے تو لازماً ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ساری مشکلات جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے آئیں ہمارے سامنے بھی آئیں گی۔ پس ہم ایک منٹ کے لئے بھی یہ وہم نہیں کر سکتے کہ ہمارا راستہ آسمان اور ہماری مشکلات کم