خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 10

- خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء فتوئی پوچھنے آئے ہو۔ کے پس غیر مبالعین کے پیچھے نماز کے متعلق فتوئی پوچھنا بھی ایساہی ہے اور لاکھوں جائز باتوں کے کرنے کیلئے تو کوئی فتوی نہیں پوچھا جاتا مگر یہ پوچھتے ہیں۔ یہ نفس کا دھوکا ہے اور جواز کا فتوی نہیں فساد کا فتوئی پوچھا جاتا ہے۔ ایسا فتویٰ پوچھنے والا پہلے میلے کے ڈھیر سے اٹھا کر سڑے ہوئے ٹکڑے کھائے، شلجم اور گوبھی کے چھلکے کھائے بوسیدہ کپڑے پہنے اور باوجود استطاعت کے ایسے بوسیدہ مکان میں رہے کہ جو معمولی سی بارش سے بھی ٹیکنے لگے جس وقت اس کی خوراک نجس ہو گی ، پوشاک نجس ہوگی اور رہائش کی جگہ نجس ہو گی اس وقت اگر آکر وہ یہ سوال پوچھے گا تو میں کہونگا چونکہ تیرا ہر کام نجس ہے اس واسطے تیرے لئے نجس بھی جائز ہے۔ تیرا کھانا پینا اوڑھنا بچھونا رہنا سہنا سب نجس ہے اس لئے تو بیشک نماز کو بھی نجس کرلے۔ لیکن جس شخص میں غیرت ہے اور جو سمجھتا ہے کہ جائز ہی نہیں بلکہ ہر چیز میں طبیب بھی دیکھنا چاہئے وہ ہرگز ایسا نہیں کرے گا جو شخص ایسا سوال کرتا ہے اسے سوچنا چاہیئے اگر وہ گرے پڑے ٹکڑے اور سبزی کے چھلکے کھانے کا فتویٰ پوچھے گا اور اسے کہا جائے گا ان کا کھانا جائز ہے مگر وہ اس پر عمل نہیں کریگا تو اس مسئلہ میں کیوں فتوے پوچھتا ہے جب تک اس کی نیت خراب نہیں۔ وہ دراصل میری زبان کو پکڑنا چاہتا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہئے میں اسے اس کے عمل سے پکڑوں گا۔ وہ اگر کے گا کہ تم نے کہا ہے غیر مبالغین کے پیچھے نماز جائز ہے تو میں کہوں گا کیا تم ہر جائز عمل کرتے ہو۔ رسول کریم میں نے فرمایا ہے تم میں سے امام وہ ہونا چاہئے جو اتقی ہو۔ تم جب یہ پسند کرتے ہو کہ اعلیٰ کھانا کھاؤ ۔ عمدہ کپڑے پہنو تو نماز کے لئے اعلیٰ امام کیوں نہیں چاہتے۔ اعلیٰ سے میری مراد ہر ایک کی حیثیت کے مطابق اعلیٰ ہے زمیندار بھی اپنی حیثیت کے مطابق اعلیٰ کھا سکتے ہیں اور عمدہ پہن سکتے ہیں۔ کھد ربھی اعلیٰ قسم کا ہوتا ہے مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک زمیندار کے پاس پیسے ہوں اور وہ دکاندار سے کہے کہ مجھے ردی قسم کا کھدر دے دو کھد ر لینے والا بھی وہی کھدرے گا جو اس کی آنکھوں کو اچھا لگے گا اسی طرح اگر کوئی جوار بھی کھائے گا تو دیکھے گا کہ عمدہ قسم کی ہو نہ یہ کہ وہ ایسی تلاش کریگا جس میں آدھی مٹی ملی ہوئی ہو حالانکہ ایسی بھی حرام نہیں۔ پس جب ہر چیز میں سے اعلیٰ کو پسند کیا جاتا ہے اور ہر شخص کے معیار کے مطابق ادنیٰ و اعلیٰ درجے ہیں اور ہر انسان اعلیٰ کو ہی پسند کرتا ہے اور جب رسول کریم مسلم نے فرمایا ہے کہ امام وہ ہونا چاہئے جو اتھی ہو تو دیکھنا چاہئے کیا غیر مبالغین انتقی ہو سکتے ہیں اگر خلافت کا احترام ادنی نیکی بھی سمجھی جائے تو یہ یقینی بات ہے کہ ایک غیر مبائع اسے ترک کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ خلافت کا احترام کوئی