خطبات محمود (جلد 13) — Page 131
خطبات محمود ۱۳۱ 722 سال ۱۹۳۱ء حد ضرورت کے ان کے متعلق سوال پیدا ہوا کہ انہیں جنگ میں شامل ہونے کی اجازت دے دی جائے یا نہ ۔ آخر بمشکل انہیں اجازت ملی۔ عبدالرحمن بن عوف جو پرانے تجربہ کار اور مشہور جرنیل تھے انہیں ان میں سے ایک لڑکے نے کہنی مار کر دریافت کیا چچا وہ ابو جہل کون ہے جس نے کی زندگی میں رسول کریم ملی علم کو سخت اذیتیں پہنچائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں افسوس کر رہا تھا کہ آج ہمیں ان تمام تکالیف کا بدلہ لینے کا موقع ملا ہے جو کفار نے رسول کریم میں ہم کو اور ہمیں پہنچائیں مگر میرے دائیں بائیں دو لڑکے ہیں۔ اگر مضبوط آدمی ہوتے تو ان کی مدد سے میں بھی نمایاں کام کرتا۔ مگر اب انہوں نے میری کیا مدد کرنی ہے اگٹا مجھے ان کی مدد کرنی پڑے گی اور ان کی حفاظت کا خیال رکھنا پڑے گا۔ وہ اسی خیال میں تھے کہ ایک نے ان سے پوچھا ابو جہل کون ہے ۔ معاً اسی وقت دوسرے لڑکے نے بھی آہستگی سے کہنی مار دی تاکہ اس کا دوسرا ساتھی نہ سن لے اور پوچھا چا ابو جہل کون ہے۔ وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے خیال کیا میں نے غلط سمجھا تھا کہ یہ بچے ہیں یہ ۔ یہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ بلکہ یہ درا ۔ یہ دراصل کفار کے لئے مصیبت ہیں بلا ہیں اور عذاب ہیں جو خدا کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ا نے انگلی اٹھائی اور اشارہ سے بتایا کہ وہ ابوج جہل ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے عرب کے مشہور جرنیل کھڑے تھے چاروں طرف سے وہ لوگوں میں گھرا ہوا تھا مگر ان کے انگلی اٹھانے کی دیر تھی کہ وہ دونوں بچے یوں جھٹے جس طرح ایک چیل بوٹی پر جھپٹا مارتی ہے۔ یا ایک شکرا اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔ ان میں سے ایک تو راستہ ہی میں مارا گیا مگر دوسرا پہنچ گیا اور اس نے ابو جہل کی گردن پر تلوار مار کر اسے ایسا زخمی کر دیا کہ وہ بعد میں ہلاک ہو گیا۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا حتی کہ بعض تاریخوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس اسلحہ بھی پورے نہ تھے۔ بعض کے پاس تلواریں بھی نہ تھیں۔ ایسے بے سامان اپنے سے تین گنا دشمن کے ساتھ لڑے اور عرب کے بڑے بڑے صنادید جو آنحضرت میم کے مقابل پر ہمیشہ لڑتے رہے تھے یا تو مارے گئے یا بری طرح شکست کھا کر میدان سے بھاگ گئے۔ مگر ایک اور لڑائی ہوئی جو رسول کریم میں یہ کی موجودگی میں اور آپ م کی زندگی میں ہی ہوئی۔ اس میں اسلامی لشکر بارہ ہزار تھا اور کفار تین چار ہزار کے قریب مگر جس وقت اسلامی لشکر بڑھ رہا تھا دشمن کے تیر انداز دروں میں چھپے ہوئے تھے انہوں نے اسلامی لشکر پر تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی اور اتنے زور سے تیر برسائے کہ بارہ ہزار کالر ر کالشکر تین چار ہزار لشکر کے مقابلہ میں بھاگ نکلا اور رسول کریم میل کے پاس ان بارہ ہزار میں سے صل