خطبات محمود (جلد 13) — Page 6
سال ۱۹۳۱ء ។ 2 خطبات محمود غیر مبالعین کے پیچھے نماز (فرموده ۹- جنوری ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ ابھی مجھے ایک رقعہ دیا گیا ہے اور خواہش کی گئی ہے کہ اس میں جو سوال تحریر ہے اس کے متعلق کچھ بیان کروں گو مقدم تو وہی مضمون ہوتا ہے جسے انسان وقت کے لحاظ سے خود منتخب کرے لیکن چونکہ یہ سوال جو رقعہ میں تحریر ہے اور بھی بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو تا رہتا ہے اور گو اس کے متعلق پہلے بھی جواب دیئے گئے ہیں مگر پھر بھی بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بار بار دہرانے کے محتاج ہوتے ہیں اور بہت سے سلسلہ میں نئے داخل ہونے والے گویا اخبارات کو پڑھنا گناہ اور جرم خیال کرتے ہیں وہ چونکہ اخبارات کو دیکھتے نہیں اس لئے انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ بیسیوں بار فلاں امر کے متعلق اظہار خیال کیا جا چکا ہے اور باوجود کئی بار جواب چھپ جانے کے وہ ویسے کے ویسے ہی کو رے رہتے ہیں۔ اگر چہ ایسے لوگوں کے لئے دوبارہ بیان کرنا بھی ویسا ہی ہے لیکن اس خیال سے کہ ممکن ہے خطبہ میں چونکہ تفصیل ہوگی اس لئے شاید وہ بھی فائدہ اٹھا سکیں اور ممکن ہے بعض وہ لوگ جن کو مختصر خطوط سے تشفی نہیں ہو سکتی وہ بھی سمجھ سکیں میں پھر اسے بیان کرتا ہوں۔ وہ سوال جو میں نے بتایا ہے کہ پہلے بھی کئی بار پیش ہو چکا ہے اور اب بھی مسجد میں داخل ہوتے وقت میرے سامنے پیش کیا گیا ہے یہ ہے کہ غیر مبائعین کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ مجھے اس سوال پر ہمیشہ حیرت ہوتی ہے اور جب بھی یہ میرے سامنے پیش ہوا مجھے حیرت ہوئی۔ سوال کرنے والے دو شقوں میں شامل ہوتے ہیں یا یوں کہہ لو کہ ان کی دو طرح تقسیم ہو سکتی ہے۔ ایک 777777777777777777