خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 5

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء میں نے غیر مبائعین کے متعلق کوئی سخت کلمہ نہیں کہا فرموده ۱۸ جنوری ۱۹۲۹ء ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ہے میں نے اگست ۱۹۲۸ء میں جو خطبہ جمعہ پڑھا تھا اور جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے اس میں اس اختلاف کے متعلق جو ہم میں اور غیر مبائعین کے گروہ میں پایا جاتا ہے ایک طریق فیصلہ بتایا تھا میں نے بیان بیان کیا؟ کیا تھا کہ یہ یہ جو جوا اختلاف ہے کہ آپس کے سمجھوتہ وتہ اور اور عہد و پیمان کو کس فریق نے توڑا ہے۔ کون ! کون اس کی خلاف ورزی کرتا ۔ ورزی کرتا رہا ہے اور کون قطعی طور پر یاد ر پر یا دوسرے کی نسبت : ے کی نسبت زیادہ اس کا خیال رکھتا رہا ہے۔ اس کے فیصلہ کا ایک طریق یہ ہو سکتا ہے کہ وہی تین آدمی جنہوں نے اختلاف کے موقع پر اتحاد و اتفاق کی تحریک کی تھی ان کے ہی سپر د اس معاملہ کو کر دیا جائے اور وہ اس طرح کہ ان میں سے ایک صاحب چونکہ اب میری بیعت کر چکے ہیں اس لئے ایک اور ہماری طرف سے شامل کر کے دو شخص : دو ہمارے اور دوان ، اور دو ان کی طرف سے ہو جائیں ۔ اس کے لئے جو چار آدمی میں نے تجویز کئے تھے وہ مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری اور سید عبد الجبار صاحب سابق بادشاہ سوات جنہوں نے آپس ۔ اپس کے اختلاف کو ایک حد تک مٹانے مٹانے کی بہت کوشش کی اُن کی طرف سے اور خان دلاور خان صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب ہماری طرف سے تھے۔ جس وقت معاہدہ کی تحریک ہوئی خان صاحب دلاور خان صاحب ان میں شامل تھے لیکن اس عرصہ میں وہ بیعت میں شامل ہو گئے اس لئے وہ اور میاں بشیر احمد صاحب ہماری طرف سے ہوں اور مولوی غلام حسن خان صاحب اور سید عبد الجبار صاحب اُن کی طرف سے ہوں ۔ یہ چاروں جو فیصلہ کر