خطبات محمود (جلد 12) — Page 537
خطبات محمود ۵۳۷ سال ۱۹۳۰ ہو ا ضائع کر رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو مجبور کرے کہ اپنی قابلیتوں سے فائدہ اُٹھاؤ۔ وہ اپنے انتخاب کے ذریعہ بتا دیتا ہے کہ تم میں یہ قابلیت ہے۔ جاؤ اور کام کر ولیکن اس کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ نہیں مجھ میں یہ قابلیت نہیں تو خدا تعالیٰ بھی کہتا ہے جاؤ اور جیسی تمہاری مرضی وکرو۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں بچتا ہے اور جو یہ خیال کرتا ہے کہ ہم میں وہ کام کرنے کی قابلیت نہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپر د کیا ہے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے فضل کی خطرناک ناشکری کرتا ہے اور اگر اس سے تو بہ نہ کرے تو اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے فضلوں سے محروم کر دیا جائے ۔ یہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ خلعت ہے جو اس کی ناقدری کرے گا وہ یقیناً مستوجب سزا ہو گا ۔ شبلی ایک گورنر تھے ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ نہایت سخت گیر تھے اور ان کے علاقہ کے لوگ ان سے بہت خوف کھاتے تھے۔ وہ ایک دفعہ بادشاہ کے دربار میں پیش ہوئے جو ایک جرنیل کی عزت افزائی کے لئے جس نے بڑی بڑی فتوحات کی تھیں منعقد ہوا تھا۔ بادشاہ نے اس جرنیل کو خلعت فاخرہ عطا کی مگر اتفاق ایسا ہوا کہ وہ دربار میں آتے ہوئے کوئی رو مال نہ ساتھ لا سکا۔ شایدا اید اسے نزلہ وغیرہ کی شکایت ہو گی اُسے چھینک جو آئی تو ناک سے رطوبت بہہ بہہ نکا نکلی ۔ اب وہ اس حالت میں تو بیٹھ نہ سکتا تھا اس نے خلعت کے نیچے سے ہی کپڑا نکالنے کی کوشش کی مگر وہ نہ نکل سکا اس پر اس نے خلعت کے ایک پہلو سے ناک صاف کر لیا بادشاہ دیکھ رہا تھا اُس نے نہایت غضب اور جوش میں حکم دیا کہ اسے د علم دیا کہ اسے دربار سے نکال دو اور خلعت واپس لے لو اس نے ہماری خلعت کی بہت بے قدری کی ہے۔ اُس وقت سے گویا اس کی تمام فتوحات کا لعدم ہو گئیں اور وہ اس بات پر درباری اعزاز سے محروم کر دیا گیا۔ بادشاہ جب اُس جرنیل پر اس قدر ناراض ہوا۔ تو شبلی نے ایک چیخ ماری اور سامنے آ کر بادشاہ سے کہا۔ میرا استعفیٰ منظور فرمائیے ۔ بادشاہ نے کہا کیوں ؟ تمہیں تو میں نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے جواب دیا میں دیکھ رہا ہوں کہ اس شخص نے کس قدر قربانیاں کی تھیں جان، عزت، بیوی بچے غرضیکہ ہر چیز قربان کر کے اس نے آپ کی خدمات کیں اور پھر ایک کپڑے کی بے حرمتی پر آپ نے اسے اس قد ر سزا دی مجھے بھی آپ کے ما تحت خدا تعالیٰ نے ایک خلعت دی ہوئی ہے اور میں اُسے ہر آن خراب کر رہا ہوں پھر میرا کیا حشر ہوگا اس لئے میرا استعفیٰ منظور فرمایا جائے ۔