خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 523

خطبات محمود ۵۲۳ سال ۱۹۳۰ء کا اس طرح پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قلبی کیفیات کو ایمان کے لحاظ سے بھی اور کفر کے لحاظ سے ا بھی ظاہری کیفیات پر ترجیح دی ہے۔ یعنی ظاہری انکار پر دل کے انکار کو مقدم رکھا ہے اور ظاہری نماز پر دل کی نماز کو مقدم رکھا ہے ۔ قرآن کریم میں آتا ہے رسول کریم ﷺ کے پاس بعض لوگ آ کر کہتے تو خدا کا رسول ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ تو خدا کا رسول ہے مگر یہ کہنے والے منافق ہیں یہ نہیں مانتے کہ تو خدا کا رسول ہے۔ دیکھو وہ منہ - خدا کا رسول ہے ۔ لے دیکھو وہ منہ سے رسول کریم عالی کے رسول ہونے کا اقرار کرتے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے چونکہ یہ دل سے نہیں کہتے اس لئے نہیں مانتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان قلب کے اقرار کا نام ہے اگر زبانی اقرار کا نام ایمان ہوتا تو اُن کے اقرار کو اس طرح حقارت سے نہ ٹھکرایا جاتا ۔ کوئی کہہ سکتا ہے اگر عملی اقرار ہو تو اسے تسلیم کیا جا سکے گا مگر معلوم ہوتا ہے اسلام نے ایسے عملی اقرار کو بھی ٹھکر ادیا ہے جس کے ساتھ قلب کا اقرار نہ ہو ۔ حدیثوں میں آتا ہے ایک شخص ایک جنگ کے موقع پر اس زور شور سے لڑ رہا تھا کہ دیکھنے والے کہہ رہے تھے بڑی قربانی اور جان شاری کر رہا ہے۔ مسلمان بے اختیار ہو ہو کر کہتے اللہ تعالی اس پر فضل کرے آج کا دن اسی کا دن ہے۔ اسی اثناء میں رسول کریم ﷺ نے اس کی طرف اُنگلی اُٹھائی اور فرمایا اگر کسی نے دنیا میں چلتا پھرتا دوزخی دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لے۔ صحابہ کہتے ہیں ہمارے دلوں میں رسول کریم ﷺ کے نشانات دیکھ کر نہایت پختہ ایمان تھا مگر یہ فقرہ سن کر ہم بھونچکا سے ہو گئے کہ ایک شخص جس نے آج اس قدر اسلام کی خدمت کی ہے اس کی نسبت رسول کریم اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں چلتا پھر تا دوزخی دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لو یہ کیا بات ہے۔ عليوة صلى الله ایک صحابی کہتے ہیں بعض لوگوں میں میں نے یہ چرچا سنا تو میں نے تہیہ کیا کہ میں اس وقت تک اس کا پیچھا نہ چھوڑوں گا جب چھوڑوں گا جب تک رسول کریم ﷺ کی بات کی صداقت ظاہر نہ ہو جائے ۔ یہ کہہ کر وہ اُس کے پیچھے پیچھے ہو لئے آخرلڑائی میں وہ شخص زخمی ہوا۔ اور زخموں کی تکلیف سے اُس نے چلا نا شروع کیا ۔ لوگ اُسے تسلی دیتے اور کہتے کیوں گھبراتے ہو آج تم نے خدا کا بڑا فضل حاصل کیا یہ تکلیف تو تھوڑی دیر کی ہے تمہیں جنت کی بشارت ہو۔ وہ کہتا مجھے جنت کی بشارت نہ دو کیونکہ میں نے اسلام اسلام کی خاطر ان لوگوں سے جنگ نہیں کی بلکہ ان ۔ ان اسے میری دشمنی تھی اس لئے میں ان کے خلاف لڑا۔ آخر جب وہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کر سکا تو اپنی تلوار رکھ کر اس پر گرا اور خود کشی کر لی ہے اور اسلام کے نزدیک خود کشی کرنے والا جہنمی ہوتا ہے تب اُس صحابی نے