خطبات محمود (جلد 12) — Page 521
خطبات محمود ۵۲۱ سال ۱۹۳۰ء دنیا کے سامان بھی موجود ہوں تو کام نہیں آسکتے ۔ غرض اللہ تعالی نے بندہ کو ہر حالت میں اپنا محتاج ثابت کرنے کیلئے ایسے سامان پیدا کئے ہیں ۔ اور ایک بڑے سے بڑے انسان کو باوجود اپنی بڑائی کے ایک متکبر سے متکبر انسان کو باوجود اپنی خود پسندی کے ایک بڑے سے بڑے منکر کو باوجود اپنے انکار اور کفر کے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس دنیا کے سارے ساز و سامان کے باوجود ایک اور چیز چاہئے جو میری ضرورت اور حاجت پوری کرے۔ پس دنیا میں صرف مال یا یا صرف حکومت یا صرف دین یا صرف علم کام نہیں آ سکتا بلکہ انسان بہت سی اور چیزوں کا بھی محتاج ہے اور ان ہی میں سے ایک محبت اور شفقت بھی ہے۔ ایک بادشاہ کے پاس حکومت اور دولت ہو فرض کرو اس کی بیوی بچوں کو اس سے محبت نہیں اس محبت کے نہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنی حکومت آرام اور اپنی دولت تسلی نہیں بخش سکتی ۔ باوجود بڑی سے بڑی حکومت رکھنے کے اور باوجو د دولت کے خزانے بھرے ہونے کے وہ جہنم میں ہی پڑا ہوگا ۔ پس ایک بادشاہ بھی شفقت اور محبت کا اسی طرح محتاج ہے جس طرح گلیوں میں پھر نے والا ایک فقیر شفقت اور محبت کا محتاج ہے کیونکہ شفقت اور محبت، دولت کی قائم مقام نہیں ہو سکتی نہ حکومت اس کی قائم مقام ہو سکتی ہے۔ محبت اور شفقت کا میدان بالکل علیحدہ ہے اور جب تک وہ اپنی جگہ پر پوری نہ ہو انسان آرام اور تسکین نہیں پا سکتا ۔ پس یہ غلط ہے کہ غریب اور کنگال ہی شفقت کے محتاج ہوتے ہیں ۔ درست بات یہ ہے کہ سارے کے سارے ہی اس کے محتاج ہوتے ہیں ۔ جس طرح ایک کنگال اور فقیر شفقت کا محتاج ہے اسی طرح ایک دولت مند اور امیر بھی اس کا محتاج ہے ہاں فرق اس طرح ہوتا ہے کہ غریب اور کنگال کے لئے شفقت روپے کی صورت میں ہوتی ہے مگر امیر کے لئے اور طرح ہوتی ہے۔ ایک بادشاہ کے لئے تو شفقت یہ ہوگی کہ اس کی خاطر قربانی کی جائے لیکن ایک غریب سے شفقت یہ ہوگی کہ اسے مالی امداد دی جائے ۔ ایک بیمار سے شفقت اس کی خدمت کے رنگ میں ہو گی لیکن ایک پیار سے محروم انسان کے لئے شفقت اور محبت کا رنگ الگ ہوگا ۔ ماں باپ سے جدا بچے کے لئے شفقت کا رنگ کیا ہے۔ اسے پیسہ یا کھلونا دینا یا کھلونا دینا نہیں بلکہ موت سے اُس سے پیار کرنا ہوگا ۔ ایک شخص ام س امیر الامراء ہؤاربوں روپیہ اس کے پاس ہو وہ بھی موس بیچا ہو انہیں ۔ اگر اس کی بیوی مر جائے اور دو سال کا بچہ پیچھے رہ جائے تو اربوں روپیہ بھی اس