خطبات محمود (جلد 12) — Page 514
خطبات محمود ۵۱۴ سال ۱۹۳۰ء کہ کام کیلئے ! اخلاص کے ساتھ مشق کی بھی ضرورت ہوتی ہے ہر کام کیلئے پہلے مشق ہونی چاہئے ۔ یور بین اقوام لڑائی سے پہلے اس کی مشق کراتی ہیں اور سپاہیوں کو روزانہ لڑائی کے لئے تیار کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ایشیائی اقوام سے جنگ میں جیت جاتی ہیں ۔ ایشیاء میں یہی دستور تھا کہ لڑائی کے عین موقع پر لوگوں کو بُلا لیا جاتا کہ آؤ جنگ کرو اور وہ مشق نہ ہونے کی وجہ سے شکست کھاتے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ۔ الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ أَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا - حکمت کی بات مؤمن کی اپنی چیز ہے جہاں سے ملے لے لینی چاہئے ۔ اب یہ بات بھی ہمیں یورپین اقوام کی اخذ کرنی چاہئے کہ کام سے پہلے مشق ضروری ہے۔ پس جو منتظم ہیں انہیں چاہئے کہ کام سے پہلے کم از کم دو تین بار اس کی مشق کرائیں ۔ کام کے متعلق خود سوال پیدا کر کے ان کے جواب سکھائیں اور بتائیں کہ اگر یہ مشکل پیش آئے تو کیا کیا جائے اور سمجھائیں کہ انہیں کس طرح کام کرنا چاہئے ۔ اب یوں ہوتا ہے کہ اگر کسی کا رکن سے غلطی ہو جاتی ہے تو افسر آ کر کہہ دیتے ہیں بچہ تھا اس سے غلطی ہو گئی آپ ہمیں معاف کر دیں ۔ مگر وہ غلطی تحریر میں نہیں لائی جاتی اور آئندہ نوٹ نہیں کیا جاتا اس لئے وہی غلطی دوبارہ ہوتی ہے۔ یا د رکھنا چاہئے کہ ایک ہی غلطی کا دوبا کا دوبارہ سرزد ہونا غلطی نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ غفلت ہے جب ا جب ایک دفعہ ایک غلط بات معلوم ہو گئی تو پھر کیوں اسے نوٹ کر کے کارکنوں کو بتایا نہیں جاتا کہ ایسے موقع پر یوں کرنا چاہئے ۔ میں ایک دفعہ منتظم جلسہ تھا اور لڑکوں کو سختی سے سے اس بات کی ہدایت تھی کہ ایک کمرہ کے لوگوں کو دوسرے کمرہ میں کھانا نہ کھلائیں بلکہ سب کو اپنی اپنی جگہ کھانا کھلائیں ۔ ایک کمرہ میں ایک دوسرے کمرہ کا مہمان آ گیا اور بچہ نے جو اُس کمرہ میں کھانا کھلانے پر متعین تھا اس ہدایت کے مطابق اسے کھانا کھلانے سے انکار کر دیا۔ مہمان کا دل چونکہ بہت نازک ہوتا ہے اُسے یہ بات بری لگی اور اُس نے کہا اچھا اب میں کھانا ہی نہ کھاؤں گا ۔ مجھے جب اس کا علم ہوا تو میں گیا اور اُس مہمان سے معذرت کی اور اُسے ا بتایا کہ یہ بچہ تو یہاں پڑھنے کے لئے آیا ہے اصل میں آپ کی خدمت ہمارے ذمہ تھی اس نے بھی اخلاص کے طور پر اپنے آپ کو اس کے لئے پیش کر دیا اس لئے یہ ہماری غلطی ہے آپ ہم سے ناراض ہو لیں مگر اس بچہ کو معاف کر دیں ۔ خیر اُس نے کھانا کھا لیا بلکہ اخلاص سے یہ بھی کہا کہ مجھ XXXXX