خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 489

خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۳۰ء گی۔ لڑائی میں اتنا موقع نہیں ہوتا کہ شکلیں پہچان پہچان کر حملہ کیا جائے وہاں تو رنگوں پر ہی حملہ ہو سکتا ہے۔ پس اگر لباس میں یک رنگی کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھیں کہ اس کے بغیر دوست دشمن میں تمیز نہیں ہو سکتی اور عین ممکن ہے دشمن پر حملہ کرنے کے بجائے اپنے آدمیوں پر ہی حملے ہوتے رہیں تو یہی لباس نہایت ضروری چیز نظر آئے گی ۔ بات اسی طرح فوجوں میں باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے کا دستور ہے حالانکہ ایسا کرنے کے بغیر بھی کام کام چل سکتا ہے اور اس کے بغیر بھی سپاہی کے اندر اطاعت کا مادہ پیدا ہو سکتا ہے لیکن با یہ ہے کہ ظاہر طور پر بھی جب تک یاد تازہ نہ ہوتی رہے اور جب تک قلب کو ظاہری حرکات سے مدد نہ دی جائے وہ وہ مردہ مرد ہو جاتا ہے۔ ہمارا ایک کتنا گہرا دوست ہو لیکن اگر متواتر کئی سال تک اُسے نہ دیکھیں تو اس کی شکل پہچاننی مشکل ہو جائے گی کیونکہ یہ ایک فطری بات ہے کہ آہستہ آہستہ پہلے نقوش انسان کے دل سے محو ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص اپنے گھر میں دیکھے لڑکیوں کی شادی کی جاتی ہے تو وہ رخصت ہوتے وقت روتی ہیں لیکن اگر ایک سال کے بعد انہیں خاوند کے گھر میں دیکھا جائے تو وہ ایسی ہی خوش و خرم نظر آئیں گی جیسے والدین کے گھر میں تھیں بلکہ بسا اوقات اس سے بھی زیادہ خوش ہوں گی کیونکہ کچھ عرصہ تک جُدا رہنے کے باعث وہ پہلی باتیں اور چیزیں پھول گئیں اور اب ان کی جدائی موجب تکلیف نہیں رہی ۔ اسی طرح دوستوں کو دیکھو ایک دوسرے سے جدا ہوتے وقت چہروں پر غم کے آثار ہوتے ہیں بلکہ جولوگ جذبات کے زیادہ مطیع یا کمزور دل ہوتے ہیں ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آ جاتے ہیں لیکن بسا اوقات ایسا ارد گرد کے نظاروں سے متاثر ۔ سے متأثر ہو کر پہلی حالت بالکل بدل جاتی کے معاً بعد ارد کرد۔ ہوتا ہے کہ گاڑی چلنے کے ہے اور دل میں اور ہی خیالات شروع ہو جاتے ہیں گویا پندرہ منٹ کا منٹ کا وقفہ ہی پہلی حالت کو بدل ڈالتا ہے۔ تو یاد رکھنا چاہئے کہ انسانی جذبات اُس وقت تک سرسبز نہیں رہ سکتے جب تک کہ باہر کے تعلقات کے پانی کا چھینٹا وقتا فوقتا نہ پڑتا ر ہے ۔ اسی طرح فرمانبرداری اگر چہ دل سے تھا سے تعلق رکھتی ہے لیکن اگر با کر بار بار یاد نہ دلایا جائے اور اس ) ور اس کی عادت نہ ڈالی جائے تو بھول جاتی ہے پس یہ ظاہری سلام اپنے اندر ایک خاص غرض اور فائدہ رکھتا ہے۔ لیکن کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فوجی سلام کے لئے ہاتھ سے ہی اشارے کی کیا ضرورت ہے اگر کوئی پاؤں ملا کر سلام کر دے تو اس میں کیا حرج ہے۔ لیکن یاد رکھنے کے لئے جب مختلف ذرائع ہوں تو یاد نہیں رہ سکتا یا درکھنے کا ایک ۔