خطبات محمود (جلد 12) — Page 451
خطبات محمود ۲۵۱ سال ۱۹۳۰ء انہوں نے کہا مقررہ دن ہزار ہا ہندو اس کے مکان کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے اور تمام دروازوں کو اندر باہر سے تالے لگا دیئے اور چاروں طرف ہزاروں پہرے دار بٹھا دیئے گئے لیکن جب وہ مقررہ وقت آیا تو اس نے یہ لکھنے کیلئے کہ مرزا صاحب صاحب کی پیشگوئی غلط نکلی ہے کا غذ اور قلم و دوات اٹھائی عین اُس وقت ایکا ایک چھت پھٹی اور آسمان سے ایک فرشتہ اُتر ا جس نے آن واحد میں اسے کاٹ کر رکھ دیا اس کا یہ کہنا تھا کہ عرب کانپ اٹھا اور اس کے منہ سے بے ساختہ سُبْحَانَ اللهِ نکلا ۔ میں سمجھ رہا تھا کہ وہ خیال کر رہا ہے اگر میں نے اس معجزہ کا انکار کیا تو ابھی دوسرا فرشتہ میرا گلا دبانے کے لئے آسمان سے اتر رہا ہوگا تو ان باتوں کا یہی نتیجہ ہوگا۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ تفسیر کا معمولی اختلاف ہے لیکن یہ معمولی نہیں بلکہ ایسا اختلاف ہے جو ہمار ا ستیا ناس کر دے گا اور ساتھ ہی دوسرے کا بھی۔ ایک طرف تو مخالفوں کے سامنے ہماری آنکھیں نیچی ہوں گی کہ جس ما مور کو ہم نے مانا اس کے معجزات دوسروں سے کم درجہ کے ہیں اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات میں تھوڑا تھوڑا مبالغہ شروع ہو جائے گا ۔ جس طرح کا ایک واقعہ میں نے ابھی سنایا ہے۔ جب اُس شخص نے یہ بات کہی تو میں نے اسے پکڑا اور اُردو میں کہا تم نے غلط بیانی کی ہے۔ میں اس عرب کو بتاتا ہوں کہ تم نے کس قدر غلط بیانی کی ہے وہ ہاتھ جوڑ نے لگا کہ مجھے شرمندہ نہ کر ولیکن میں نے اس عرب کو بتا دیا کہ انہیں غلطی لگ گئی ہے اصل واقعہ اس طرح ہوا تھا۔ اگر اس مبالغہ کی اصلاح نہ کی جاتی تو یہ اور آگے بڑھتا ۔ اگر وہ عرب احمدی ہو جاتا یا یونہی کسی اور سے اسے بیان کرتا تو آہستہ آہستہ یہ واقعہ اس طرح مشہور ہو جاتا کہ اسے مارنے کے لئے زمین سے بھی فرشتے نکل آئے اور آسمان سے بھی اور دیواروں سے بھی ۔ ایسے مبالغے اس طرح بڑھنے شروع ہوتے ہیں جس کی کوئی انتہاء نہیں رہتی ۔ ایک صاحب یہاں آئے اُنہیں انہی صاحب نے جن کے درس کے متعلق میں یہ بیان کر رہا ہوں تبلیغ شروع کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزات سُنائے ۔ تو وہ بولے یہ کیا معجزے ہیں معجزہ تو یہ ہے کہ مکہ میں تربوز ہوتے ہیں ۔ حالانکہ وہاں ریت ہی ریت ہے جس میں تربوز پیدا ہی نہیں ہو سکتے ۔ ( انہیں اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ تربوز دراصل ہوتا ہی ریتلی زمین میں ہے ) وہاں ان کے پائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ مکہ کے لوگ اپنے گدھے ساتھ لیکر طائف آتے ہیں اور یہاں سے کنکر بھر کر لے جاتے ہیں اور وہاں جا کر جب انہیں کھولتے ہیں تو تربوز نکل آتے ہیں ۔