خطبات محمود (جلد 12) — Page 447
خطبات محمود ۴۴۷ سال ۱۹۳۰ء ہے اور وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ کے یہ معنے ہیں کہ طور پہاڑ اُٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا کہ مانو ورنہ ابھی پہاڑ گرا کر تمہیں ہلاک کر دیا جائے گا۔ اگر میرے سامنے اس کے متعلق متعدد گواہیاں پیش نہ ہوئیں تو انہ ہوتیں تو میں یہی خیال کرتا کہ یہ کرتا کہ یہ بات غلط طور پر ان کی طرف منسوب کی گئی ۔ لیکن کئی ذرائع سے یہ بات معلوم ہونے کے بعد میں نے پھر بعض سے خود دریافت کیا جن میں سے بعض باہر سے آئے ہوئے مہمان تھے اور بعض قادیان کے علماء سب نے مجھے یہی بتایا کہ یہ بات درست ہے۔ میں نے ایک صاحب سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا اُس وقت کو وقت کوئی شخص نہ بولا کہ ایسے معنی کرنا ہمارے طریق تفسیر اور تعلیم کے خلاف ہے۔ انہوں نے جواب میں جو بات کہی وہ اچھی طرح میری سمجھ میں نہ آئی اور خود بیان کرنے والے کو بھی شبہ تھا کہ شاید اس طرح یا اور کسی طرح وہ بات ہوئی اس لئے میں اُسے تو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں لیکن بہر حال انہوں نے کہا۔ ایک دوست نے جب کہا کہ یہ معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فرمودہ تفسیر کے خلاف ہیں تو درس دینے والے صاحب نے جواباً کہا میں یہاں اپنے معنے بیان کرنے آیا ہوں نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اس میں غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ کوئی احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر آنے پر اشارتا بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ بیان کرنے والے دوست کو خود بھی اس کے متعلق شبہ تھا وہ کہتے تھے اچھی طرح یاد نہیں اس لئے میں اس حصہ کے متعلق تو اگر راوی کو شبہ نہ بھی ہوتا تو کبھی اسے قابلِ تحقیقات سمجھ کر چھوڑ دیتا اور صرف اس حصہ کو لیتا جو یقینی طور پر مختلف گواہیوں کے ذریعہ جو تواتر کی حد تک پہنچ جاتی ہیں معلوم ہو چکا ہے اگر کسی ایسی آیت کے ایسے معنے اپنے خیال کے مطابق بیان کئے جاتے جو ہمارے سلسلہ کی روایات اور تعلیم پر اثر نہ ڈالنے والے ہوتے تو بھی میں اسے چھوڑ دیتا لیکن بیان کردہ معنوں کا سلسلہ کی روایات سے اتنا تعلق ہے کہ میں انہیں رڈ کئے بغیر چھوڑ نہیں سکتا ۔ ایسے معنی کرنے سے وہ اصول جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام تمام عمر پیش کرتے رہے اور وہ کوشش جو اسے منوانے کے لئے ہم پچاس سال سے کر رہے ہیں سب پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اجتہاد اعلیٰ درجہ کی چیز ہے اور اس سے دنیا ترقی کرتی ہے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر اس طرح ہوتا کہ کوئی شخص تمام دنیا کو اپنے خیالات کے مطابق کر سکتا اور کسی کو خلاف نہ رہنے دیتا۔ اول تو یہ بات نا ممکن ہے کہ تمام دنیا کی زبانوں اور دلوں پر گلیہ کوئی قابو پالے لیکن اگر ایسا ہو XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX