خطبات محمود (جلد 12) — Page 436
خطبات محمود م سال ۱۹۳۰ء اردگرد کی جماعتیں ضرورت کے موقع پر وہاں سے اطلاع حاصل کریں۔ مثلا لا ہور دہلی، راولپنڈی، پشاور جالندھر ملتان وغیرہ مقامات پر یہاں سے اطلاع دے دی جائے اور ہر جماعت اپنے قریبی مرکز سے معلوم کرلے ۔ اگر ہمارا خبر رسانی کا انتظام ایسا ہوتا تو تین جون کو ہی ہر جگہ اطلاع ہو جاتی لیکن اب تو یہ ہوا کہ بعض لوگوں کو واپسی تار دیے اڑتالیس اڑتالیس گھنٹے ہو گئے لیکن کوئی جواب نہ ملا کیونکہ تار والے آہستہ آہستہ اور باری باری کام کر رہے تھے ۔ اُدھر دوستوں کو اس قدر پریشانی تھی کہ کئی ایک کے دل گھٹنے شروع ہو گئے اور بعض کو تو باوجود یکہ اطمینان ہو چکا تھا کہ یہ خبر غلط ہے مگر انہیں دھڑ کے کی بیماری ہوگئی ۔ اگر ایسا انتظام ہوتا کہ انہیں وقت پر اطلاع مل سکتی تو ان کی صحت پر ایسا نا گوار اثر نہ پڑتا۔ پس دفاتر کو چاہے ایسا انتظام کریں کہ تمام جماعتوں کو فوراً اطلاع پہنچائی جاسکے اور گاؤں اور دیہات میں جلد از جلد خبر دی جا سکے۔ زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بھی ایسے انتظام کی اشد ضرورت ہے ۔ ابھی ہم سن رہے ہیں کہ ارد گرد کے سکھ قادیان پر حملہ کرنے کے منصوبے کر رہے ہیں ایسے مواقع کے لئے بھی ضروری ۔ روری ہے کہ ہر جگہ پر فوراً اطلاع پہنچانے کا انتظام کیا جا سکے ۔ ایسی شورش کے زمانہ میں جب دشمن نے ہمیں ہر طرف سے پھیرا ہوا ہے زیادہ ضرورت ہے کہ ہم جماعت کو اور عت کو اور زیادہ منظم کریں ۔ پھر سب سے بڑا سبق جو ہم اس سے حاصل کر سکتے ہیں یہ ہے کہ در حقیقت دنیا ہمیں ہر ہتھیار سے نقصان پہنچانا چاہتی ہے جو بھی ذریعہ اس کے بس میں ہو اُس سے ہمیں وہ دکھ دینا چاہتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم خدا کے حضور دعاؤں میں لگ جائیں اور عجز وانکسار پر زیادہ زور دیں ۔ اور اصل بات تو یہ ہے مؤمن کا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہوتا ہی نہیں ۔ وہی ہے جو مؤمن کی حفاظت کرتا ہے باقی ساری دنیا کی دوستیاں یوں بھی فضول ہیں لیکن مؤمن کے لئے تو وہ بالکل ہی فضول ہیں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومن سے دشمنی کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ میرا رب ہے کے اللہ کو رب کہنے کی وجہ سے ہی دنیا اس کی مخالف ہوتی ہے۔ اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کو رب کہنے والے ہم ہی ہیں اس لئے جتنے بھی خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے دشمن ہیں خواہ جھوٹے معبودوں کی پرستش کرنے والے ہوں خواہ وہ دہریے ہوں ہماری مخالفت میں سب جمع ہو گئے ہیں۔ پس اس موقع پر ہمیں اور بھی زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہئے کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے لئے ہی دنیا سے لڑائی مول لی ہے اور اگر اس سے بھی ہمارا