خطبات محمود (جلد 12) — Page 424
خطبات محمود ۲۴ سال ۱۹۳۰ء شتر ہائیں اور بجائے کوئی اور مفید کام کرنے کے بیٹھے کھڈ رہنا کریں اور اس طرح ملک کی طاقت ضائع ہوگی ۔ ہاں اگر یہ شرط ہو کہ ہندوستان کا بنا ہوا کپڑا پہنا جائے تو یہ بات قابل عمل ہو سکتی ہے بشر طیکہ اس میں بائیکاٹ کی تحریک شامل نہ ہو۔ وہی کام انہ ہو۔ وہی کام درست ہو سکتا ہے جو اپنے فائدہ کیلئے کیا جائے نہ کہ دوسرے کے نقصان کیلئے ۔ تو تحریک اگر یوں ہوتی کہ ہندوستان کا بنا ہوا کپڑا پہنا جائے تو بہت اچھا ہوتا ۔ ہندوستان میں بھی بمبئی اور احمد آباد وغیرہ مقامات پر کپڑے کے بہت بڑے کارخانے ہیں اور نئے کھل سکتے ہیں۔ پس ملکی کپڑا پہننے کی تحریک ہونی چاہئے تھی نہ کہ کھدر کی ہاں جن کو کھد ر میسر آئے وہ ضرور کھڈ رہیں ۔ مثلاً زمیندار لوگ ہیں ان کی عورتیں سوت کاتی ہیں اور وہ اپنے جلا ہوں سے کھد ر بنوا کر پہن لیتے ہیں ۔ ایسے لوگ ضرور پہنیں کیونکہ وہ اگر اس کا پہننا چھوڑ دیں گے تو ان کی عورتیں بیکار رہیں گی ۔ مگر یہ خیال کہ تعلیم یافتہ لوگ جو دوسرے مفید کام کر سکتے ہیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کھڈ رہنا اور پہننا شروع کر دیں نہایت فضول بات ہے۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک چوہڑے کا کام نمبردار کے سپرد کر دیا جائے اور بجائے اس کے کہ وہ گاؤں کی نگرانی کرے اور جھگڑوں وغیرہ کا تصفیہ کرے اس سے کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا کام لیا جائے یا ڈپٹی کمشنر کو کسی اور ادنی کام پر لگا دیا جائے ۔ پس اس تحریک سے کوئی فائدہ تو نہیں لیکن نقصان ضرور ہے۔ خلافت کے دنوں میں کہا جاتا تھا اس تحریک سے مسلمان جولا ہوں کو فائدہ ہوگا لیکن وہ جولا ہے آج بھی ویسے ہی غریب ہیں جیسے پہلے تھے۔ ہندو تاجر جاپان سے کھد ر منگوا لیتے ہیں اور انگریزی کپڑا اگر پانچ آنے گز پکتا ہے تو وہ جا پانی کھد ر آٹھ آنے گز فروخت کرتے ہیں اور اس طرح پہلے سے بھی زیادہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور اس تحریک کے ذریعہ پہلے سے بھی زیادہ مقدار میں روپیہ ہندو بنیوں کے ہاتھوں میں پہنچ رہا ہے۔ مسلمانوں کو تو اس سے کوئی فائدہ پہنچانہیں اور نہ ہی مسلمان جولا ہوں کی حالت میں کوئی تغیر ہوا ہے ۔ اگر ہندوستان میں ہی سارا کھد ر تیار ہو اور وہ بھی پیشہ ور جو لا ہے تیار کریں تو البتہ مسلمان جولا ہوں کو فائدہ ہو سکتا ہے لیکن اس بات کا پہلے ہی انتظام کر لیا گیا کہ ہندوؤں کا روپیہ مسلمان جولا ہوں کے گھر میں نہ جائے اور یہ قرار دیا گیا کہ ہر شخص خود اپنے گھر میں کھد ربن لیا کرے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں کپڑے کے جو کارخانے ہیں ان میں لاکھوں ہندوستانی کام کر رہے ہیں جن کی مزدوری عام جولا ہوں سے بہت زیادہ ہے اور اس تحریک سے وہ لوگ بھو کے مر