خطبات محمود (جلد 12) — Page 402
خطبات محمود ۴۰۲ سال ۱۹۳۰ء ہے یہی حال دیگر مذاہب کا ہے ۔ ۔ ۔ دشمن سے مقام سے مقابلہ کے لئے تو نکلتے ہیں لیکن جب کوئی حملہ ہوتا ہے تو کہہ دیتے ہیں چلو یہ بات نہ سہی لیکن اسلام پوری طرح اس بات پر قائم ہے کہ قرآن کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف بلکہ ایک ایک حرکت پوری طرح محفوظ ہے۔ اور اس کی اجمالی نہیں بلکہ تفصیلی تعلیم بھی قابلِ عمل ہے اس لئے اسلام کے لئے مونچھیں نیچی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہر حملہ جو اس پر ہوتا ہے اس کے جگر پر پڑتا ہے۔ دیگر مذاہب کی مثال پانی کی ہے۔ جس پر تلوار پڑتی ہے لیکن کوئی اثر نہیں ہوتا مگر اسلام ایک زندہ چیز ہے جس پر تلوار لگ کر زخم پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور پھر سڑا نڈھ پیدا ہوا ہے۔ مردہ کو خواہ کتنے زخم لگائے جائیں اسے احساس نہ ہو گا لیکن زندہ گوشت میں اگر سوئی بھی چھوئی جائے تو جائے تو بہت تکلیف ہو گی ۔ ہے ہوئی ۔ ہماری کتاب زندہ ہے اس لئے اس پر جو حملہ ہوتا ہے اس سے زخم پیدا ہوتا اور پھر اس میں سڑانڈھ پیدا ہوتی ہے لیکن دوسری کتب مردہ ہیں اس لئے خواہ کتنے خطرناک حملے کروان پر کوئی اثر نہ ہوگا ۔ تو گو حملے سارے مذاہب پر ہوتے ہیں مگر باقی تو مونچھیں نیچی کر کے علیحدہ ہو جاتے ہیں لیکن اسلام کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لئے دو ہی راستے ہیں کہ مٹ جائے یا مٹا دے تیسری راہ اس کے لئے کوئی نہیں اس لئے حقیقتا اگر کسی مذہب کے لئے موجودہ رو سے دقت پیدا ہوتی ہے تو صرف اسلام کے لئے ہی ہے۔ یہ ایک دھوکا ہے کہ اس وقت سارے مذاہب ہی مشکلات میں ہیں وہ ظاہری مشکلات میں ہوں تو ہوں حقیقت میں انہیں کوئی مشکل در پیش نہیں ۔ پھر ان کے لئے علاج موجود ہے کہ میدان چھوڑ دیں لیکن اسلام ایسے مقام پر کھڑا ہے کہ پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتا ۔ اسلام میں پیٹھ دکھا کر بھاگنا نا جائز ہے اور حق تو یہ ہے کہ چونکہ دوسرے بھاگ جاتے ہیں اس لئے ان پر کئے گئے حملے بھی سمٹ سمٹا کر اسلام پر ہی آپڑتے ہیں۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کے لئے جس جدو جہد اور کوشش کی ضرورت ہے وہ اس قدر عظیم الشان ہے کہ خیال اس کا اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ آج ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم جو جد و جہد کر رہے ہیں اس کا نتیجہ کب نکلے اممکن ہے ہماری عمریں اس میں گزر جائیں اور کوئی نتیجہ نہ نکلے ۔ پھر ہماری اولادوں اور پھر ان کی اولادوں کی عمریں بھی اسی کوشش میں بسر ہوں اور نتیجہ نہ پیدا ہو کیونکہ حق کے خلاف باطل کا حملہ بھی وہ حملہ ہے جس کی آدم سے لیکر تمام ابنیاء خبر دیتے آئے ہیں