خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 349

خطبات محمود ۳۹ سال ۱۹۳۰ء اگر چہ بعض دفعہ بڑے بھی غلطی کر لیتے ہیں ۔ اسمبلی اور صوبہ جاتی کونسلوں کی کارروائی میں بعض اوقات سرکاری افسروں کی ایسی تقریریں اخبارات میں شائع ہوتی ہیں جو قومی غیرت کو اُکسانے والی اور نہایت بیہودہ ہوتی ہیں اور انہیں پڑھ کر میں کانگریسی لیڈروں کو حق بجانب سمجھتا ہوں کہ وہ جوش میں آگئے ۔ مجھے بھی کبھی کبھی افسروں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے اور میں نے یہی اندازہ کیا ہے کہ چھوٹوں میں ادب کم ہوتا ہے اس سے بڑوں میں زیادہ اور علی ھذا القیاس جتنا کوئی افسر بڑا ہو گا اتنا ہی زیادہ ادب و تہذیب میں بڑھا ہوا ہوگا ۔ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں مجھے ایک ڈپٹی کمشنر سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ وہ مجھے دیکھ کر کھڑا تو ہو گیا با تیں بھی کیں لیکن مصافحہ نہ کیا اور ہمارے تمدن کے لحاظ سے یہ معیوب بات ہے ۔ پھر گورنر سے ملا تو اس کے رویہ میں بہت فرق تھا۔ وائسرائے سے ملا تو اس سے بھی زیادہ فرق پایا۔ وہ دروازہ تک پہلے لینے آئے اور پھر چھوڑ نے بھی ۔ وزیر ہند مسٹر مانٹیگو سے ملا تو انہیں اس سے بھی زیادہ مؤدب پایا انہوں نے ایک ممبر پارلیمنٹ کو کوٹھی کے بیرونی دروازہ پر جو کوئی دواڑہ ہائی سو گز کے فاصلہ پر تھا بھیجا اور پھر اندرونی دروازہ پر خود آئے ۔ غرض جتنا کوئی بڑا افسر ہوتا ہے اُتنا ہی زیادہ اس میں شرافت کا احساس ہوتا ہے اور سوائے اس کے کہ کہیں پر قومی غیرت کا سوال ہو انگریز افسر عام طور پر شرافت سے ہی پیش آتے ہیں لیکن معمولی معمولی افسر بجائے اس کے کہ امن کو قائم کریں اپنے تعصبات اور ذاتی فوائد کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ ۔ ا اور میرا یقینی خیال ہے کہ اگر سچائی سے اس امر کی تحقیقات کی جائے تو معلوم ہوگا کانگریس کی آدھی شورش پولیس کی وجہ سے ہے۔ اگر اس محکمہ کے ادنی افسر شرافت سے کام لیں، ظلم نہ کریں، رشوت نہ لیں تو کانگریس کی آدھی طاقت ٹوٹ ئے ۔ گورنمنٹ کو ایک حد تک اس بات کا علمہ ت کا علم بھی ہو ۔ می ہو جاتا ہے لیکن چونکہ وہاں پر سٹیج کا سوال جائے ۔ آ جاتا ہے اس لئے وہ باوجود محسوس ہو جانے کے زیادہ دخل ان باتوں میں نہیں دیتی ۔ ایک دفعہ یہاں ایک واقعہ ہو گیا ۔ غیر احمدیوں کا جلسہ تھا اس میں ایک غیر احمدی مولوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالی دی اُس وقت وہاں سے بھینی کی ایک احمدی عورت گذر رہی تھی جس نے جواب میں پنجابی کی مشہور گالی جو زمیندار عورتیں عام طور پر استعمال کرتیں ہیں ۔ یعنی دادے منہ بگونا‘ نکال دی۔ اس پر ایک پولیس کانسٹیبل نے اس عورت کو دھگا دیا اور اس وجہ سے بعض احمد یوں نے اس کانسٹیبل سے مقابلہ کیا۔ بعض دوست میرے پاس یہ شکایت لے کر XXXXXXXXXXXX