خطبات محمود (جلد 12) — Page 331
خطبات محمود ۳۳۱ سال ۱۹۳۰ء کے لئے اپنے حسب منشاء انتظام کرے۔ وہ کہتا ہے میں فلاں عورت سے تمہارا نکاح پسند کرتا ہوں ۔ یہ کہتا ہے بہت اچھا مجھے منظور ہے۔ وہ کہتا ہے میں تمہارے نکاح کے لئے فلاں تاریخ مقرر کرتا ہوں ۔ یہ کہتا ہے بہت اچھا ۔ وہ کہتا ہے میرے خیال میں اس قدر مہر مقرر ہونا چاہئے یہ کہتا ہے ٹھیک ہے۔ وہ کہتا ہے اتنا زیور انہیں دینا چاہئے یہ اسے منظور کر لیتا ہے لیکن ایجاب و قبول خودا سے ہی کرنا پڑتا ہے اور نکاح کا معاملہ کسی کے سپرد کر دینے کے یہ معنی نہیں کہ وہ خود ہی عورت تلاش کرئے اپنے پاس سے زیور کپڑا دے خود ہی مہر ادا کرے اور آپ ہی جا کر کہہ آئے کہ مجھے منظور ہے بلکہ صرف یہ معنی ہوتے ہیں کہ میں اپنے ارادہ کو چھوڑتا ہوں اور جس طرح تم پسند کرو گے اسی طرح کروں گا ۔ پس تو کھل کے معنی بھی یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو نظام اور طریق عمل مقرر کیا ہے ہم اس پر عمل کریں گے اور جس طرح وہ حکم دے گا اسی طرح کریں گے۔ جس طرح نکاح کا معاملہ سپرد کر دینے والا کہتا ہے کہ جو شرائط تم تجویز کرو گے میں منظور کروں گا ۔ جس جگہ نکاح پڑھوانے کیلئے مجھے کہو گے جاؤں گا اسی طرح تو گل کا مطلب بھی یہی حصہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو راستہ میرے لئے تجویز کر دیا ہے میں اسی پر چلوں گا ۔ پس تو گل کا عملی یہ ہے کہ انسان کہتا ہے ۔ اے اِلهَ الْعَالَمِين! جو قواعد تُو نے میرے لئے مقرر کئے ہیں مجھے منظور ہیں تو جو کہے گا میں کروں گا ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں یہی بتایا ہے کہ میں عملی طور پر اپنے آپ کو تیرے سپرد کرتا ہوں ۔ اس کے مقابلہ میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے فرمایا یعنی اے خدا ! میں نے اپنے آپ کو پورے طور پر تیرے حوالے کر دیا ہے اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں ۔ اگر تو گل کے یہ معنے ہوتے کہ عمل ترک کر دیا جائے تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی کیا ضرورت تھی بلکہ یہ کہنا چاہئے تھا کہ میں نے تو تو کل کر لیا ہے۔ نماز روزہ حج وغیرہ فرائض آپ اپنے پاس ہی رکھئے اب مجھے کسی عمل کی کیا ضرورت ہے۔ مگر نہیں بلکہ یہ کہتا ہے کہ میں نے تجھ پر کامل تو گل کر لیا ہے اب آپ ہی بتائیے میں کیا کروں؟ مجھے عمل کا طریق بتائیے کیونکہ میں نے آپ کی ہی ماننی ہے آپ کے مقابلہ میں اور کسی کی ہرگز نہیں مانوں گا۔ اس درخواست کا جواب آگے اللہ تعالی نے الم سے وَالنَّاسِ تک دیا ہے۔ جب بندہ نے کہہ دیا کہ میں تیری مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اُٹھاؤں گا تو قرآن نازل ہوا ۔ گویا تو کل کا صحیح مفہوم یہ ہوا کہ جس طرح خدا کہے گا کروں گا اور قرآن کریم پر عمل کروں گا ۔ دوسرا اعتقادی رنگ ہے یعنی نتیجہ کے لحاظ سے