خطبات محمود (جلد 12) — Page 289
خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۳۰ء جاتا اور اگر کوئی امر مذہبا نا جائز ہو تو اس میں خواہ فائدہ یا فتح ہی ہو اسے ہم نہیں کر سکتے مثلا ایک شخص کا مکان بالکل جنگل میں واقع ہے وہ وہاں موجود نہیں اور بھی کوئی دیکھنے والا نہیں تو اگر چہ ہم نہایت آسانی سے اس کا مال نکال کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ مذہب نے اس کی اجازت نہیں دی۔ لیکن باقی جہاد کا سوال ہے تو جب اس کا حکم ہو اُس وقت یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ ہمیں فتح ہو گی یا شکست ہر مسلمان کا فرض ہوگا کہ جنگ کے لئے اُٹھ کھڑا ہو خواہ ایک ایک کر کے سب مارے جائیں ۔ پس جائز یا ناجائز مذہبی لحاظ سے دیکھا جاتا ہے اور اس میں فتح و شکست يا نفع و نقصان کا کوئی سوال نہیں ہوتا ۔ اور مذہبی لحاظ سے اس سوال کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حل فرما دیا ہے اور اسے نا جائز قرار دیا ہے۔ اب اگر ہماری فتح یقینی ہو جب بھی ہم جنگ نہیں کر سکتے اور اس بات کو کوئی عقلمند نہیں مان سکتا کہ انگریز بغیر لڑائی جھگڑے کے ہندوستان چھوڑ دیں گے ۔ اب اس کا سیاسی پہلو باقی رہ جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کانگریس کی پالیسی سے زیادہ دھوکا اور فریب کی پالیسی اور کوئی نہیں ہو سکتی اور مسلمانوں سے زیادہ کوئی احمق نہ ہو گا اگر انہوں نے اسے تسلیم کر لیا ۔ یہ کہنا کہ حقوق کا تصفیہ بعد میں ہو جائے گا نہایت مضحکہ خیز بات ہے۔ مذہب اگر کسی کام کے کرنے کی اجازت دیتا ہو تو بھی ہمیں عقل سے کام لیکر دیکھنا چاہئے کہ ہمارا فائدہ اس کے کرنے میں ہے یا نہ کرنے ہیں ۔ جیسے بینگن اور کڈ وکھانا جائز ہیں لیکن جسے بواسیر ہوا سے بینگن نہیں کھانا چاہئے۔ تو شریعت نے جس امر میں اجازت دی ہے اس میں ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہمارا فائدہ اس کے کرنے میں ہے یا نہ کرنے میں اور اس امر میں اگر شریعت نے اجازت بھی دی ہو کہ ہم دخل دیں تو بھی میں کہوں گا کہ سیاسی لحاظ سے یہ خودکشی کا معاملہ ہے ۔ میں نے بتایا ہے انگریز بغیر لڑائی اس ملک کو چھوڑنے کے نہیں ۔ فرض کرولڑائی ہوئی اور انگریز ملک کو چھوڑ کر بھی چلے گئے تو کوئی عقلمند یہ نہیں مان سکتا کہ کوئی ملک کسی وقت بھی بغیر حکومت کے رہ سکتا ہے۔ پھر اگر تمام انگریزوں کو قتل کر کے یا سمندر میں غرق کر کے ایک دن میں ختم بھی کر دیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُس دن ہندوستان پر کون قابض ہوگا مسلمان یا ہند و یا مشتر کہ طور پر دونوں ۔ اگر مشترکہ طور پر تو پھر ان کا اشتراک کسی نسبت سے ہوگا ۔ اگر کہا جائے کہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوگی تو یہ بالبداہت غلط ہے کیونکہ ہندو مسلمانوں کو کچھ بھی دینے کے لئے تیار نہیں اس لئے فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ جب تک با قاعدہ کوئی حکومت قائم نہ ہوگی نظام مسلمانوں XXXXXXΧΧΧΧΧΧΧXXXXXXXX