خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 277

خطبات محمود ۲۷۷ سال ۱۹۳۰ء حاصل ہوتی رہے کیونکہ اس علم سے واسطہ اور رابطہ بڑھتا ہے جس سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ پھر رمضان کا یہ بھی فائدہ ہے کہ جن کو راتوں کو جاگنا پڑتا ہے ان کی حالت کا علم ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح یہ بھی مشق ہوتی ہے کہ حلال چیزوں کو خدا کی خاطر ترک کر دیا جائے اور جب حلال چھوڑ سکتا ہے تو پھر حرام کو چھوڑ نا آسان ہو جاتا ہے ۔ غرض اس سے کئی قسم کے سبق حاصل ہوتے ہیں لیکن فائدہ وہی اُٹھا سکتا ہے جو استعمال کرے۔ جو استعمال نہ کرنے اسے کوئی فائدہ نہ ہو گا ۔ خالی رمضان میں فائدہ نہیں بلکہ رمضان کی حالت پیدا کرنا فائدہ کا موجب ہے۔ جس طرح کو نین کو استعمال کرنے سے ہی بخار کو آرام ہو سکتا ہے جو اسے استعمال نہیں کرتا اس کے ارد گرد کے گھروں میں خواہ کتنی استعمال ہوتی ہو اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ پس خدا تعالیٰ جن کو توفیق دے انہیں ضرور روزے رکھنے چاہئیں ۔ ہماری جماعت کے تعلیم یافتہ لوگوں کو چاہئے کہ تعلیم یافتوں کیلئے نمونہ بنیں اور عوام کو عوام کیلئے نمونہ بننا چاہئے ۔ پھر عورتیں روزہ کے معاملہ میں بلا وجہ تنگی پیدا کرتی ہیں اس لئے انہیں یہ نمونہ دکھانا چاہئے کہ جہاں روزہ جائز نہیں وہاں اعتراض سے ڈر کر یا رسم و رواج کی پابندی کی وجہ سے روزہ نہ رکھیں ۔ غرضیکہ جو کمی کرنے والے ہیں ان کیلئے روزہ رکھ کر اور جو سختی کرنے والے ہیں ان کیلئے اس حالت میں جس کی شریعت نے تشریح کر دی ہے روزہ چھوڑ کر نمونہ بننا چاہئے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین البقرة: ١٨٧ ( الفضل ۷۔ فروری ۱۹۳۰ء ) ترمذی ابواب الاطعمة باب ان المؤمن يا كل في معى واحد