خطبات محمود (جلد 12) — Page 274
خطبات محمود ۲۷۴ سال ۱۹۳۰ء الگ الگ ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو غذا کی محتاج نہیں کیونکہ اسے فنا نہیں ۔ ہر فنا ہونے والے کے لئے بدل مَا يَتَحَلَّل ضروری ہے۔ تو روزہ کے دنوں میں غذا سے ایک حد تک اجتناب اللہ تعالیٰ سے مشابہت پیدا کر دیتا ہے۔ غذا کم ہونے سے انسان کی روحانی بصیرت تیز ہوتی ہے۔ روحانی وجودوں کی غذا ئیں چونکہ لطیف تر ہوتی ہیں اس لئے وہ رؤیتِ الہی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رؤیتِ الہی کا کمال مرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں غذا لطیف ہو گی جس سے روحانی بصیرت بڑھ جاتی ہے۔ ملائکہ کی جسمانی آنکھیں نہیں ہوتیں لیکن ان کی روحانی بینائی انسان کی نسبت بہت تیز ہوتی ہے۔ تو رمضان سے انسان کی روحانی تربیت مکمل ہوتی ہے جس سے اس کی روحانی بصیرت تیز ہو جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے فیوض جذب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جن کو وہ رمضان کے بغیر نہیں کر سکتا تھا۔ رمضان ہی کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر میرے بندے سوال کریں خدا کہاں ہے تو تو کہہ دے میں قریب ہی لے یوں تو ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ قریب : ریب ہوتا ہے اور پھر جو بندہ اسے پکارتا ہے وہ تو اسے پہلے ہی مانتا ہے پھر یہاں سالک کا کیا مطلب ہوا ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جب میرا بندہ رمضان کے متعلق سوال کرتا ہے کہ روزے سے خدا کی رضاء کس طرح حاصل ہو سکتی ہے تو اس کا جواب یہ دے کہ روزہ سے انسان خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے جس کی ظاہری صورت یہ ہے کہ روزہ دار کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں أُجِيبُ دَعْوَةِ الدَّاعِينَ نہیں فرمایا بلکہ صرف الدَّاعِ فرمایا جس کے معنے ہیں کہ ہر پکارنے والے کی نہیں بلکہ روزہ دار پکار نے والے کی دُعاسنی جاتی ہے۔ ہوں پس رمضان کی ایک برکت تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اور ملائکہ سے مشابہت پیدا ہوتی ہے دوسرے خدا تعالیٰ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے اور تیسرے یہ کہ دعا ئیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ۔ یہ تو روحانی فوائد ہیں اور جسمانی طور پر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان تکالیف اور شدائد کا عادی ہو جاتا ہے۔ جسمانی ترقیات بھی روحانی ترقیات کی طرح مجاہدات پر مبنی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہذب حکومتیں جو فوجیں رکھتی ہیں ان کے سپاہیوں سے باقاعدہ پریڈ کراتی رہتی ہیں جس سے ان کے اندر شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے گہرے تعلقات رکھنے والے لوگوں کی غذا ئیں ہمیشہ کم ہوتی ہیں یعنی وہ اپنے