خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 212

خطبات محمود ۲۱۲ سال ۱۹۲۹ء بادشاه - دیکھا تو اس کی سارنگی توڑ دی۔ وہ شخص بادشاہ کا درباری تھا اس نے بادشاہ سے شکایت کی۔ اہ نے بہ بزرگ کو بلایا ۔ اور ان کے سامنے خود سارنگی بجانے ارنگی بجانے لگا آپ خاموش بیٹھے رہے۔ اس نے پوچھا دیکھا میں کیا کر رہا تھا ۔ انہوں نے کہ نے کہا ہاں دیکھا آپ سارنگی بجا رہے تھے ۔ بادشاہ نے بجار کہا تم نے فلاں شخص کی سارنگی توڑ دی تھی ۔ انہوں نے کہا ہاں اس لئے کہ رسول کریم ﷺ کا حکم ہے کہ اگر کسی بدی کو ہاتھ سے مٹانے کی طاقت ہو تو اسے ہاتھ سے مٹا دو ۔ اس نے کہا میں بھی تو سارنگی بجا رہا تھا اسے کیوں نہیں تو ڑا۔ آپ نے فرمایا یہ بھی حکم ہے کہ ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکو اور یہ بھی نہ ہو تو دل میں ہی برا مناؤ۔ سو میں نے دل میں بہت بُرا منایا اور ا یہ ادنی ایمان ہے کہ انسان بدی کو بدی کو دل میں بُرا سمجھے اور جو ظلم ہوتا دیکھتا ہے اور دل میں بھی بُر ، برا نہیں مانتا تو وہ شریعت کا مت کا مجرم ہے اور خود بھی ایسا ہی ظالم ہے جیسا ظلم کرنے والا ۔ یہ طریق ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنا چاہئے ۔ عفو نرمی در گذر اور محبت سے کام لینا چاہئے ۔ اور اگر کسی کو ظلم کرتا دیکھیں تو محسوس کریں کہ اس نے اس مظلوم پر حملہ نہیں کیا بلکہ ہم سب پر حملہ کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کیا ہے کیونکہ جس غ جس غرض کے لئے آپ مہ لئے آپ مبعوث ہوئے تھے اس کی نے تحقیر کی ہے اسے توڑ دیا ہے۔ پس اگر طاقت ہو تو ہاتھ سے اسے روکیں وگر نہ زبان سے ہی سہی اور اگر یہ بھی نہ ہو تو کم از کم دل میں بُرا منائیں ۔ اور جس شخص کے اندر یہ بات بھی پیدا نہ اس نے ہو سکے وہ جائے اور خدا کے ہاں روئے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے ماننے والے ہیں ۔ ہمیں ایسا نمونہ پیش کرنا چاہئے کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ وال ة والسلام کے ماننے والے لوگوں میں بھی اسی طرح لڑائیاں، جنگیں اور جھگڑے ہیں جس طرح اوروں میں ۔ میں اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اس برگزیدہ کیلئے بدنامی کا موجب نہ بنائے جو دنیا کی اصلاح کیلئے آیا ۔ آمین ( الفضل ۶ - دسمبر ۱۹۲۹ء ) لامتی باب ۵ آیت ۳۹ تا ۴۱ پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء کشتی نوح صفحه ۱۲ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴ مسلم کتاب الايمان باب كون النهى عن المنكر من الايمان وان الايمان يزيد وينقص