خطبات محمود (جلد 12) — Page 111
خطبات محمود (11 سال ۱۹۲۹ء کسی انسان سے لڑ کر خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق قطع کرے اس سے زیادہ اپنی جان کا دشمن اور کون ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کسی نے کہا ہے ۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے بندوں سے تو اس کی لڑائی ہو گئی تھی لیکن اس نے خدا سے بھی لڑائی کر لی ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ یہاں انجمن تشحیذ الاذہان کا جلسہ تھا اس میں کسی مضمون کے لئے حضرت خلیفہ اول نے انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ اس جلسہ میں مختلف لوگوں نے مضمون پڑھے۔ حضرت خلیفہ اول نے جو اُس وقت خلیفہ نہیں تھے ایک شخص کو انعام دیدیا ۔ اب جیسا کہ قاعدہ ہے کہ ایسے موقع پر لوگ مختلف قسم کی رائے زنی کرتے ہیں۔ کسی مجلس میں یہ بھی کہا گیا کہ انعام دینے کے متعلق مولوی صاحب نے فیصلہ صحیح نہیں کیا جسے انعام دیا گیا وہ اس کا اہل نہیں تھا۔ کسی شخص نے یہ باتیں میری طرف منسوب کر کے حضرت مولوی صاحب کے سامنے بیان کیں جس سے قدرتی طور پر پرا انہیں تکلیف ہوئی ۔ مجھے یاد نہیں رہا آپ نے زبانی یا تحریر ا مجھ سے دریافت فرمایا کہ سنا ہے آپ کو میرے فیصلہ پر اعتراض ہے بتاؤ کیا فیصلہ ہونا چاہئے تھا ؟ میں نے اعتراض کیا ہی نہیں تھا لیکن چونکہ میری طرف کسی نے منسوب کر دیا تھا اور حضرت مولوی صاحب نے فرمایا تھا مجھے یہ اعتراض بہت برا لگا ہے اور میری ناراضگی کا موجب ہوا ہے ۔ اُدھر آپ درسوں میں ہمیشہ فرمایا کرتے تھے جس شخص پر میں ناراض ہو جاؤں وہ مجھ سے علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔ میں نے دل میں کہا یہ موقع میں اپنے متعلق نہیں آنے دوں گا اس لئے باوجود یکہ میں نے بوجہ بخار سے بیمار ہونے کے کئی ماہ سے پڑھنا ترک کر رکھا تھا۔ کتاب لیکر پڑھنے کے لئے آپ کے پاس چلا گیا آپ سمجھ گئے ۔ بعد میں میں نے بتایا مجھ پر یہ محض افتراء تھا میں نے کوئی اعتراض نہ کیا تھا۔ اگر کوئی اور ہوتا اور وہ ایسے موقع پر کہتا کہ میں اب پڑھوں گا ہی نہیں تو وہ اپنا نقصان آپ کر لیتا۔ اسی طرح جو شخص مسجد میں نماز ادا کرنا اس لئے ترک کرتا ہے کہ امام سے اس کی لڑائی ہے تو وہ اپنا نقصان آپ کرتا ہے۔ امام کو اس سے کیا کہ کون اس کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اور کون نہیں پڑھتا ۔ پس مسجد میں نماز نہ پڑھنا اپنی جان سے دشمنی ہے۔ خیر ان لوگوں نے معافی مانگ لی ہے اور میں نے انہیں معاف بھی کر دیا ہے لیکن ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے