خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 552

سال 1927ء ۵۵۲ خطبات محمود ہے ہم کیا اور ہماری طاقتیں کیا ؟ وہ اپنے دشمن کو دیکھیں اور اپنی طاقتوں کو دیکھیں اور یاد رکھیں کہ خدا ہی ان کا کام کرتا ہے۔ پھر دوسرے وسوسہ والے جو یہ خیال کرتے ہوں کہ ہم کیا اور ہماری بساط کیا۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کو میں کہتا ہوں وہ مایوس اور نا امید کیوں ہوتے ہیں؟ جب ماں کے ہوتے ہوئے بچہ مایوس نہیں ہوتا تو ہم خدا کے ہوتے ہوئے کیوں مایوس ہوں؟ پس جن کے دل میں یہ وسوسہ ہو۔ وہ بھی نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ کی تلوار سے کاٹ ڈالیں۔ کیونکہ مایوی ایک خطرناک کرم ہے جو امید اور کامیابی کے درخت کو کھا جاتا ہے۔ تم سمجھو کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی سمجھو کہ ہم اس تلوار کی طرح ہیں جو ایک بہادر اور جری کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اپنے آپ تلوار کیا کر سکتی ہے۔ ایک بچہ نا ہے۔ ایک بچہ بھی تو ڑ کر اسے خراب کر سکتا ہے۔ مگر جب بہادر کے ہاتھ میں آتی ہے تو کشتوں کے پشتے لگا دیتی ہے۔ پس یہاں جو امور آپ لوگوں کے سامنے پیش کئے جائیں ان کے متعلق یہ نہ کہو کہ ہم ان کو کر دیں گے۔ بلکہ یہ کہو خدا انہیں کرے گا۔ اور خدا تعالی ہی کی مدد کرتی ہے جو کچھ ہوتا ہوتا ہے مگر ساتھ ہی دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں کو دیکھ کر مایوس اور نا امید نہ ہو۔ کیونکہ خدا نے ہی کام کرتا ہے۔ میرے نزدیک تو جو شخص مایوس ہوتا ہے اس میں بھی عجب ہی پایا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ فلاں کام میں نے ہی کرنا تھا۔ اب چونکہ میں نہیں کر سکتا اس لئے وہ ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن جس کی نظر خداتعالی پر ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ اگرچہ میں کچھ نہیں ہوں مگر خدا تعالیٰ کر سکتا ہے۔ اور گو میں کمزور ۔ نیم جان اور مردہ ہوں مگر میں خدا تعالی کے ہاتھ میں ہوں۔ اور گو میں اپنی طاقت کے لحاظ سے کچھ نہیں ہوں مگر خدا تعالیٰ کے سہارے اور مدد کے لحاظ سے بہت بڑا اور طاقتور ہوں۔ دیکھو انسان سمندروں کو طے نہیں کر سکتا۔ مگر جہازوں کے ذریعہ طے کرتا ہے۔ پس جب لکڑی اور لوہے کے ذریعہ سمندر کو انسان طے کر لیتا ہے تو کیا زندہ خدا کے ذریعہ مصیبتوں مشکلوں اور تکلیفوں کے سمندروں کو طے نہیں کر سکتا ؟ ضرور کر سکتا ہے۔ پس تم لوگ ان دونوں خیالوں کو لے کر کھڑے ہو جاؤ۔ کہ اول ہم خود کچھ نہیں کر سکتے خدا ہی کرے گا اور دوسرے یہ کہ ہم سب کچھ خدا کے سہارے اور اسی کی مدد سے کریں گے اور کوئی مصیبت کوئی مشکل اور کوئی تکلیف ہمارے راستہ میں نہیں ٹھر سکے گی۔ غرض یہ خدا تعالی کی دی ہوئی تلوار ہے۔ اس کو استعمال کرو اور اس کے بعد جلسہ کے کاموں میں مشغول ہو جاؤ۔