خطبات محمود (جلد 11) — Page 550
سال 1927ء ۵۵۰ خطبات محمود طور پر بھی جب خون پہنچنا بند ہو جاتا ہے تو انسان بے ہوش ہو جاتا ہے اور دماغ بیکار ہو جاتا ہے۔ تو فرمایا کہ ایسا انسان نہیں جانتا کہ ہمارا اس کے ساتھ جبل الورید یعنی اس دل اور دماغ کے سلسلہ سے بھی زیادہ تعلق ہے کیونکہ حبل الورید کا تو اگر خون بند ہو جائے تو انسان کے دماغ پر اثر پڑتا ہے۔ لیکن ہمارا اثر اس پر بلا واسطہ پڑتا ہے۔ اور خود حبل الورید ہماری پیدا کردہ ہے پھر وہ خون بھی جو دماغ کو پہنچاتی ہے اور دماغ بھی ہمارا ہی پیدا کردہ ہے۔ جب یہ بات ہے تو پھر وہ عجب اور تکبر کس بات پر کرتا ہے۔ ہم اگر اس سے اپنی مدد بند کر دیں تو پھر وہ چیز ہی کیا ہے ؟ حبل الورید چلتی ہی رہتی ہے اور خدا تعالی کا حکم ہو جاتا ہے کہ فلاں پاگل ہو جائے تو دماغ کسی کام کا نہیں رہتا ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ دیکھنے والے کہتے ہیں کاش! اسے موت آجائے۔ ایک پردہ دار عورت ہوتی ہے۔ اسلامی پردہ نہ کسی عام پر وہ جو ستر کو ڈھانپنے کے لئے ہوتا ہے۔ وہی سہی مگر وہ پاگل ہونے پر کپڑے پھاڑ کر ننگی بازار میں نکل جاتی ہے۔ اس وقت اس کے رشتہ داروں کی جو حالت ہوتی ہے وہ انہی سے پو چھنی چاہئے۔ اسی طرح ایک لڑکا جسے سارا خاندان اپنا سارا سمجھتا ہے جب پاگل ہو کر کسی کو مارتا ہے اور کسی سے مار کھاتا ہے کسی کو گالیاں دیتا ہے اور کسی سے سارے خاندان کو گالیاں دلاتا ہے تو وہی رشتہ دار جو اس کے لئے جان تک دینے کو تیار ہوتے ہیں کہتے ہیں کاش یہ مر جاتا۔ تو اللہ تعالی کا انسان سے تعلق جبل الورید سے بھی زیادہ ہے۔ اس لئے فرماتا ہے انسان یہ ضعیف اور کمزور انسان ہم سے کیونکر اپنے آپ کو مستغنی سمجھ لیتا ہے۔ بھلا اس کی بھی کوئی طاقت کوئی زور اور کوئی ہمت ہے؟ یہ تو ہماری مدد اور ہمارے سہارے کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے۔ پس یہ تلوار اس قسم کے وسوسہ کے کاٹنے کے لئے ہے۔ جو انسان میں تکبر ۔ معجب اور غرور پیدا کر کے خدا تعالٰی سے مستغنی کر دیتا ہے۔ دو سر او سوسه اب رہا دو سرا مایوسی کا وسوسہ اس کا جواب دیتا ہے۔ فرماتا ہے وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تَوَسُوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَ نَحْنُ توَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الوَريد ۔ ہم نے انسان کو پیدا کیا ورنہ یہ تو لم يَكُن شَيًّا مَذْكُورا تھا۔ ہم نے اسے انسان بنایا ۔ پھر ہم خوب جانتے ہیں جب یہ تے ہیں جب یہ کام کرنے لگتا ہے تو اس کے دل میں وسوسہ اوسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ میرے مقابلہ میں یہ مصیبت ہے یہ تکلیف ہے یہ مشکل ہے میں کیا کر سکتا ہوں؟ فرمایا ولقد خَلَقْنَا الإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسُوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ کیا نادان ہے ۔ کیا