خطبات محمود (جلد 11) — Page 516
خطبات محمود ۵۱۶ 44 سال ۶۱۹۲۸ مسلمان حکومتوں کی دین سے بے اعتنائی (فرموده ۱۶/ نومبر ۱۹۲۸ء) تشهد ، تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسان کے راستہ میں مختلف قسم کی مشکلات پیش آتی رہتی ہیں اور ان کے دور کرنے کے لئے وہ مختلف قسم کی تدابیر اختیار کرتا ہے لیکن بعض دفعہ ان تدابیر کے اختیار کرنے میں وہ افراط و تفریط سے کام لیتا ہے اور بعض دفعہ صحیح رستہ پر چلتا ہے ۔ جب وہ صحیح رستہ پر گامزن ہو تو اس کی کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ مگر جتنا جتنا وہ صحیح رستہ سے دور اور افراط و تفریط کے قریب ہوتا جائے گا اس کی کامیابی بھی مشکوک ہوتی چلی جائے گی۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کے لئے بہت سی مشکلات پیش آرہی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دنیا میں جو بھی سیلاب آفات کا اٹھا ہے اس نے چاروں طرف گھوم کر انہی کے گھر ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔ گویا یہ ایک مقناطیس ہیں جو ہر مصیبت کے لوہے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ یہ اس کا نتیجہ ہے کہ ان کے ہاتھوں سے حکومتیں جاتی رہی ہیں پہلے تو ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ملک ان کے ہاتھوں سے نکل گئے ان کی طاقت کمزور ہو گئی اور پھر ان کی بعض مملکتیں غیروں کے ماتحت اور بعض ان کے اثر و نفوذ کے نیچے آگئیں۔ پھر حکومتوں کے زوال کے ساتھ ان کے اخلاق میں نقص آنے لگا وہ تعاون اور رواداری جو مل کر کام کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے ان سے نکل گئی اور تہذیب کا وہ نقطہ جس پر وہ قائم تھے اس سے نیچے گر گر گئے۔ نہ ہمسایوں سے نیک سلوک کرنے کی طاقت ان میں رہی نہ اپنے خلاف خیالات سننے کی ہمت باقی رہی اور نہ ہی اجتماع کے موقع پر دوسروں کے احساسات کا احترام ان میں باقی رہا۔ غرض کہ تہذیب کے سب ستون گر گئے اور اس میدان میں بھی مسلمان دوسری اقوام سے پیچھے رہ گئے۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی وہ گر گئے۔ وہ علوم جن کو ان کے