خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 46

سال 1927ء ۴۶ خطبات محمود بزرگ نے کہا تمہارا گھر کدھر ہے۔ اس نے کہا کہ میں فوج میں ملازم ہوں اس لئے ادھر جا رہا ہوں۔ اس نے کہا پھر میری دعا کیا فائدہ کرے گی۔ تم بچے کی درخواست کرتے ہو اور خود گھر سے باہر جارہے ہو بچہ کے لئے دعا کرانی ہے تو بیوی کے پاس رہو ۔ غرض دعا کے ساتھ تدبیر کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ طاقت اور امکان کے مطابق کوشش بھی کرنی چاہئے ۔ کیونکہ جو شخص دعا کے ساتھ کوشش نہیں کرتا وہ یہ چاہتا ہے کہ یونہی مجھے سب کچھ مل جائے۔ غرض دعا کے ساتھ تدبیر اور کوشش ہوا کرتی ہے۔ صرف کوشش سے بسا اوقات نا کام رہ جاتے ہیں۔ لیکن اگر دعا اور کوشش دونوں ہوں تو کامیابی ہوتی ہے۔ جب انسان ایک قدم اٹھائے تو خدا تعالی کی طرف سے دو قدم اٹھتے ہیں۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے عقائد اور اعمال کی اصلاح کی جائے۔ اور دعا کے ساتھ کوشش اور تدبیر کو اختیار کیا جائے ۔ قرآن شریف کی طرف توجہ نہ کرنے سے ہی یہ ساری خرابی پیدا ہوئی کہ لوگ لفظوں پر گر گئے۔ اور مطلب کی طرف سے غفلت اختیار کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس پر اعتراض ہونے شروع ہو گئے ۔ اب دیکھ لو یہی قرآن جو پہلے تھا اب بھی ہے ۔ مگر پہلے اس پر ساری دنیا اعتراض کرتی تھی۔ اس لئے کہ خود مسلمان اس پر توجہ نہیں کرتے تھے اور اس کے مطالب سمجھنے کے لئے دعا نہیں کرتے تھے ۔ لیکن اسی قرآن کو لیکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اٹھے تو لوگوں کی گردنیں جھکا دیں کیونکہ وہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہنے کے موقع پر اپنی دعا میں یقینا یہ مفہوم رکھتے تھے کہ الہی قرآن کے علوم کو مجھ پر کھولا جائے۔ چنانچہ ان پر کھولے گئے ۔ غور کرو یہی قرآن ہے ۔ جس کے متعلق کہا جاتا کہ اس میں کوئی دلیل نہیں۔ یہ جو بات کہتا ہے بلا دلیل اور بلا ثبوت کہتا ہے۔ اس کی عبارت بھی بے ترتیب ہے۔ لوگوں کے نزدیک یہ بالکل ظنی تھا۔ غیر یقینی تھا۔ حقائق سے خالی تھا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی کو لیکر اٹھے اور جہان پر ثابت کر دیا کہ اس کی ہر بات بادلیل ہے اور اس کا ہر دعوی با ثبوت ہے۔ یہ بالکل یقینی ہے۔ اور ایسا صحیفہ ہے۔ جس کی مثل کوئی کتاب نہیں ۔ پھر اس وقت تو یہ حالت تھی کہ اس کے ماننے والے بھی یہاں تک کہتے تھے کہ گیارہ سو سے لے کر پانچ تک اس کی آیتیں منسوخ ہیں۔ مگر حضرت مرزا صاحب اٹھے اور کہا اس میں سے ایک لفظ بھی منسوخ نہیں اور بتا دیا کہ یہ بالکل وہی قرآن ہے جو آنحضرت اللہ پر نازل ہوا اور جو آپ کے صحابہ کے ہاتھ میں تھا۔ آخری زمانہ میں شاہ ولی اللہ شاہ صاحب بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ مگر وہ بھی کہتے تھے کہ قرآن کریم کی پانچ آیتیں منسوخ ہیں ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے