خطبات محمود (جلد 11) — Page 504
خطبات محمود ۵۰۴ سال ۴۱۹۲۸ نے آ۔ وصیت کرتا ہوں کہ میں دنیا کی سب سے زیادہ قیمتی چیز یعنی محمد رسول اللہ ا پیچھے چھوڑے جاتا ہوں ان کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرنا یہ کہا اور جان دے دی۔ ۲ ان کو اپنی موت نظر آرہی تھی ، بدن زخموں سے چور تھا، ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں لیکن برداشت کا یہ حال تھا کہ کسی تکلیف کی طرف دھیان نہ تھا۔ دوسری طرف رُحَمَاء بَيْنَهُمْ کی ایک مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ان کا ہر شخص دوسرے کے لئے قربانی کرتا تھا۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول رسول کریم ال کے اشد ترین دشمنوں میں سے تھا۔ ایک دفعہ اس آپ کی شان میں گستاخی کی۔ آپ کو جب اس کا علم ہوا تو اس کا بیٹا آپ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ میرے باپ کو مارنا چاہیں اور اس کی سزا اس سے کم ہو بھی کیا سکتی ہے کیونکہ اس نے آپ کی شان میں گستاخی کی ہے تو مجھے حکم فرمائیں تا میں خود اس کی گردن اڑا دوں اس لئے کہ اگر آپ نے کسی اور کو حکم دیا تو ممکن ہے کہ اسے دیکھ کر کبھی مجھے جوش آجائے اور میں اپنے باپ کا قاتل سمجھ کر اسے کوئی نقصان پہنچا دوں۔ سلمہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کتنا رحم تھا۔ وہ اس لئے اپنے باپ کو اپنے ہاتھ سے مارنا چاہتا ہے کہ مبادا اس کے ہاتھ سے کسی مسلمان بھائی کو نقصان پہنچے اور دل میں کسی اور بھائی کی برائی کا خیال پیدا ہو۔ ہر شخص کا باپ ہوتا ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اپنے باپ کو اپنے ہاتھ سے مارنا کس قدر مشکل کام ہے۔ لیکن وہ اس لئے اپنے باپ کو مارنے پر آمادگی ظاہر کرتا ہے کہ تاکسی بھائی کی برائی کا خیال اس کے دل میں پیدا نہ ہو۔ لیکن افسوس ہے کہ اب مسلمانوں سے رُحَمَاء بَيْنَهُمْ کی صفت اُڑ چکی ہے۔ میں اپنے دوستوں کو بھی دیکھتا ہوں کہ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑ پڑتے ہیں اور ایک دوسرے سے بولنا چھوڑ دیتے ہیں مل کر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ خود بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ چھوٹا سا معاملہ ہوتا ہے لیکن کہتے ہیں جب تک فلاں آدمی کو ہیں نہ ڈالا جائے ہم چین نہیں لیں گے اور فلاں کو یوں سزا کیوں نہیں دی گئی۔ اتنا نہیں سوچتے کہ میرے ساتھ بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ کیا جو لوگ میرے خلاف باتیں کرتے ہیں میں ان کو پیس ڈالتا ہوں لیکن ان لوگوں کی تمام توجہ اس بات کی طرف ہوتی ہے کہ ان کے مخالفوں کو پیس ڈالا جائے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرماتے تھے کہ میں نے ایک دفعہ لڑکوں سے پوچھا کہ جو لڑ کے قصور کرتے ہیں ان کا علاج کیا ہے۔ اس پر ایک لڑکے نے جواب دیا کہ بس اٹھتے بیٹھتے جوتی۔ آپ اس پر بہت ہنسا کرتے تھے اور فرماتے کہ اس نے یہ نہ سوچا کہ