خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 475

خطبات محمود ۴۷۵ سال ۱۹۲۸ء ہے تو اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ لیکن کیا اس کے آنکھیں بند کر لینے سے بلی کی طاقت سلب ہو جاتی ہے۔ لوگوں کا گالیاں دینا کبوتر کے آنکھیں بند کر لینے جیسا ہی ہے۔ اگر کوئی شخص دھوپ میں آنکھیں بند کر کے بیٹھے اور سمجھے کہ سورج نہیں ہے تو اس کی نادانی ہے۔ دنیا میں نور قائم ہے اگر اس زمانہ کے لوگ اپنی بیوقوفی سے اسے رد کرتے ہیں تو آنے والی نسلیں ان کو اندھا اس زمانہ لوگ اپنی ہیو قونی سے اسے رد کرتے ہیں تو کہیں گی کہ دھوپ میں بیٹھ کر کہتے رہے نور نہیں ہے۔ وہ ان کی عزت ہرگز نہیں کریں گی بلکہ یہ کہیں گی کہ چونکہ وہ ناپاک لوگ تھے اس لئے پاکیزگی کو قبول نہ کر سکے۔ وہ تھے اس لئے نہ پس یاد رکھو عزت خدا کی طرف سے آتی ہے اور کوئی اسے چھین نہیں سکتا۔ خدا تعالی جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔ وہ انسان جو ان باتوں کو اپنے قبضہ میں سمجھتے ہیں وہ نادان ہیں اور پچھتائیں گے یا ان کی نسلیں پچھتائیں گی لیکن اس وقت ان کا پچھتانا ان کے لئے فائدہ مند نہیں ہو گا۔ (الفضل ۲۸ ستمبر ۱۹۲۸ء) ے تذکرہ ص ۳ ۔ ایڈیشن چهارم