خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 420

خطبات محمود ۴۲۰ سال ۱۹۲۸م اس میں کئی نکات بیان کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ہو سکتا ہے فنون میں سے بعض بچے بھی ہوں۔ لیکن چونکہ شکی ہیں اور ان میں غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے اس لئے ان سے بچو۔ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو اکسپیریمنٹل Experimental نہیں ہوتیں دلائل سے معلوم ہوتی ہوتی ہیں جو کہ ہیں اور ان میں غلطی کا شبہ ہوتا ہے اور کئی ان میں سے غلط ہو جاتی ہے۔ بیسیوں مسئلے ایسے ہیں جنہیں دلائل سے ثابت کیا جاتا تھا مگر اب لوگ ان کو غلط قرار دے کر چھوڑ رہے ہیں۔ تو فرمایا إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِنم شک و شبہ والی باتیں بعض دفعہ بچی بھی ہوتی ہیں لیکن غلط بھی اس لئے ان کو چھوڑ دینا چاہئے۔ دو سرا نکتہ یہ بیان کیا جس سے شرعی مسائل کا حل ہوتا ہے کہ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمُ الله تعالٰی نے یہ نہیں کہا کہ سارے ظن غلط ہوتے ہیں بلکہ یہ فرمایا کہ بعض ظن غلط ہوتے ہیں مگر فرماتا ہے۔ اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ بہت سے مظنون سے بچو۔ کیوں پاس لئے کہ ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو غلط ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہا کہ ظن سے بچو کیونکہ ظن تو یقین والا بھی ہوتا ہے اور گمان غالب والا بھی۔ اس لئے فرمایا شک والے ظن سے بچو ان میں صحیح ظن بھی ہو سکتا ہے مگر اکثر چونکہ غلط ہوتے ہیں اس لئے ان سے بچو۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ایک چور کو چور سمجھ لیں مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ایک بے گناہ کو چور سمجھ لیں۔ پس وہ ظن جس کے معنے شک کے ہیں اس کے متعلق قاعدہ یہی ہے کہ ایسے ظن خراب زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سے یہی نکتہ معلوم ہوا کہ جس چیز سے منع کیا جائے ضروری نہیں کہ اس کی وجہ سے ہر فرد میں خرابی پیدا ہو بلکہ عام کو دیکھا جاتا ہے۔ اس کی موٹی مثال شراب کی ہے اس پر بعض لوگ قبضہ پالیتے ہیں۔ وہ اس میں اس قدر نہیں بڑھتے کہ ان کی صحت یا ان کے جذبات اور احساسات کو اس سے نقصان پہنچے لیکن ایسے بھی ہوتے ہیں اور کثرت سے ایسے ہی ہوتے ہیں جو اس سے نقصان اٹھاتے ہیں اس لئے ان کی کثرت کو دیکھ کر اسلام نے شراب کو قطعی طور پر حرام کر دیا۔ پس کئی مسائل ایسے ہیں کہ بعض لوگ نکل سکتے ہیں جو ان پر عمل کر کے گناہ میں مبتلاء نہ ہوں لیکن اکثر گناہ میں مبتلاء ہو جائیں گے اس لئے ان کی کثرت کو مد نظر رکھ کر قلیل کو نظر انداز کر دیا گیا اور سب کے لئے ایک قانون بنا دیا۔ اب یہ جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے مگر فلاں شخص شراب پیتا ہے اس پر اس کا کوئی مضر اثر نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ ضروری نہیں شراب ہر ایک کے لئے مضر ہو دیکھنا یہ ہے کہ اکثر پر اس