خطبات محمود (جلد 11) — Page 400
خطبات محمود ۵۳ سال ۶۱۹۲۸ مسلمانوں کی ترقی کار از قرآن کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں ہے (فرموده ۶ / جولائی ۱۹۲۸ء بمقام ڈلہوزی) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے حسب ذیل آیت پڑھی۔ يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمْ بُرْهَانَ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُوْرَ اقْبِينَا ، (نساء (۱۷۵) اللہ تعالٰی نے اس مختصر سی آیت میں جو میں نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد پڑھی ہے ایک ایسا قانون اور ایسا کر مسلمانوں کو بتایا ہے جس کے ذریعہ سے وہ دنیا کی ساری قوموں سے افضل ہو سکتے ہیں اور ان پر غالب آسکتے ہیں۔ یہ آیت قرآن شریف کے متعلق ہے کہ اے لوگو تمہارے پاس برہان آگیا ہے۔ برہان کے معنی دلیل اور حجت کے ہوتے ہیں۔ دلیل اور حجت ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ کسی چیز کی صداقت کا پتہ لگتا ہے۔ کوئی بات بھی دنیا میں ایسی نہیں جو بغیر دلیل یا حجت کے مانی جائے۔ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ ہر بات کے لئے دلیل تلاش کرتا ہے خواہ وہ دلیل عقلی ہو یا مشاہدہ کی۔ یعنی یا تو یہ چاہتا ہے کہ اس کو عقل سے ثابت کر دیا جائے اور یا پھر اس کو دکھا دیا جائے۔ پھر وہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں سمجھتا مثلاً کسی کے لئے دن ثابت کرنے کے دو ہی طریقے ہیں (1) کہ اس کو دکھا دیا جائے کہ سورج چڑھا ہوا ہے (۲) اگر ہم اس کو سورج چڑھا ہوا نہیں دکھا سکتے تو دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کو روشنی دکھائیں۔ تو دلیلیں دو ہی طرح کی ہوتی ہیں یا تو وہ چیز دکھا دی جائے یا پھر علامتیں بتادی جائیں۔