خطبات محمود (جلد 11) — Page 388
خطبات محمود ۳۸۸ سال ۶۱۹۲۸ اسلام کی خاطر متحد ہو جاؤ فرموده ۲۵ مئی ۱۹۲۸ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس وقت مسلمانوں کی جو حالت دنیا میں ہو رہی ہے اور خصوصاً ہندوستان میں ان کے حقوق کو جس طرح پامال کیا جا رہا ہے وہ ہر ایک عقلمند کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ لیکن یرد۔ دیکھا گیا ہے کہ جب قوموں قوموں کے پر تباہی اور ادبار کا زمانہ آتا آتا ہے تو اس حالت میں ان کی آنکھوں پر چربی چھا جاتی ہے۔ وہ باتیں جو معمولی آدمیوں کو بھی نظر آجاتی ہیں ان کو نظر نہیں آتیں۔ وہ گر رہے ہوتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ گر رہے ہیں۔ وہ مٹ رہے ہوتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ مٹ رہے ہیں۔ وہ مر رہے ہوتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ مر رہے ہیں۔ غرضیکہ اس وقت تک ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی رہتی ہے جب تک کہ علاج بے سود اور تدبیر بے کار نہیں ہو جاتی۔ دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ ان کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ پہچاننے والے پہچانتے ہیں کہ ان پر مصیبتوں پر مصیبتیں پڑ رہی ہیں حتی کہ رہ گذر بھی محسوس کرتے ہیں کہ اس قوم پر خدا کا عذاب نازل ہو رہا ہے۔ لیکن نہیں دیکھتی اور نہیں محسوس کرتی تو ایک وہ قوم جو مصیبت ادبار اور تکلیف میں مبتلاء ہوتی ہے وہ دکھوں کو عارضی اور مصیبتوں کو غیر حقیقی اور ان عذابوں کو جو اس پر نازل ہو رہے ہوتے ہیں صرف سطحی آثار خیال کر لیتی ہے اور کبھی اپنی اصلاح و درستی کی طرف توجہ نہیں کرتی۔ مسلمانوں کی اس وقت میں حالت ہو رہی ہے وہ کسی ایک کلمہ پر نہ جمع ہوتے ہیں اور نہ جمع ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور حالات ایسے ہو رہے ہیں کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ جمع ہو بھی نہیں سکتے۔ جو ان کے سب سے زیادہ خیر خواہ نظر آتے ہیں وہی ان میں سب سے زیادہ لڑنے