خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 359

خطبات محمود ۳۵۹ سال ۶۱۹۲۸ شخص سے جو جماعت احمدیہ کا فرد کہلاتا ہے میں پوچھتا ہوں کیا غصہ کی حالت میں اسے رحم آتا ہے؟ اور وہ اس نیت سے سزا دیتا ہے کہ اصلاح کرے یا اسے سزا دینے پر لطف آرہا ہوتا ہے۔ اور اس بات پر غصہ آرہا ہوتا ہے کہ میں کیوں اتنا کمزور ہوں کہ اس سے زیادہ سزا نہیں دے سکتا اگر غصہ کی حالت میں اور سزادی کے وقت اس کے دل میں رحم اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے، وہ تکلیف محسوس کرتا ہے کہ کیوں کسی کو سزا دے رہا ہے تو وہ مومن ہے۔ لیکن اگر غصہ کی حالت میں سزا دینے پر اسے مزا آتا ہے اور حسرت پیدا ہوتی ہے کہ اس سے زیادہ کیوں نہیں دے سکتا تو وہ سمجھ لے اس میں ایمان نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی محبت اور غصہ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ لڑائی جھگڑے سے بچنا کیا ہی معمولی بات ہے پھر رسول کریم ﷺ نے اس کا طریق بھی بتا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ باوجود اس کے اگر ایک انسان محبت کے جذبات اپنے دل میں پیدا نہیں کر سکتا تو اسے کیا حق ہے کہ اپنے آپ کو ایمان کی طرف منسوب کرے۔ پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے ہاتھوں اور اپنی زبان کو قابو میں رکھنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ معمولی سی کوشش سے مسلمان کامیاب ہو سکتا ہے۔ دوستوں کو چاہئے ایک دوسرے سے سلوک اور معاملہ میں احتیاط اور نرمی سے کام لیں یونہی نہ لڑیں نہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھائیں۔ آپس میں لڑنا ایمان کی علامت نہیں ہے اور اگر لڑتے ہو تو یہ بھی یاد رکھو کہ شریعت نے زیادتی کرنے والے کے لئے سزا بھی رکھی ہے۔ شریعت کا حکم ہے کہ جس طرح کوئی شخص کسی سے سلوک کرے ویسا ہی سلوک اس کے ساتھ بھی کیا جائے اس کے لئے بھی تیار رہو۔ یہ نہ سمجھو کہ انگریزی گورنمنٹ ایسی باتوں میں کچھ نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ خدا کی حکومت بھی ہے جو انگریزی گورنمنٹ سے بہت بلند ہے وہ پکڑ سکتی ہے اور وہ کہتی ہے جو کسی پر ہاتھ اٹھائے اس پر ہاتھ اٹھایا جائے یہ نہیں کہ جرمانہ کر دیا جائے اس صورت میں اس کے لئے تیار رہو۔ انگریزی حکومت کی وجہ سے کوئی شخص خدا تعالٰی کے مواخذہ سے بچ نہیں سکتا۔ اگر کوئی کسی پر ہاتھ اٹھائے تو اس سے اسی طرح معاملہ کیا جائے۔ شریعت کا یہی حکم ہے ناکہ اسے پتہ لگے کہ جب میں نے کسی کو مارا تھا تو اس وقت اس کے دل کی کیفیت کیا ہوئی تھی۔ وہی کیفیت اور جذبات اس کے دل میں پیدا ہوں اور وہ محسوس کرے کہ جب میں نے دوسرے کو مارا تھا تو اس کے دل کی بھی یہی حالت تھی تاکہ پھر وہ ایسا فعل نہ کرے۔ ہماری جماعت کے