خطبات محمود (جلد 11) — Page 27
سال 1927ء ۲۷ خطبات محمود داریاں عائد ہوتی اور جو بوجھ اس پر لادے جاتے ہیں۔ وہ بھی معمولی ذمہ داریاں اور معمولی بوجھ نہیں۔ اگر حضرت ابوبکر اپنی خلافت کے زمانہ میں اپنے بوجھوں اور ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے پرندے کی حالت کو دیکھ کر رشک کرتے ہیں کہ کاش وہ پرندہ ہوتے تا ان پر یہ ذمہ داریاں نہ ہوتیں۔ اور اگر حضرت عمر خلافت کے زمانہ میں یہاں تک کہتے ہیں کہ میں اگر صرف اللہ تعالٰی کی گرفت کے نیچے نہ آؤں تو یہی بڑی بات ہے۔ میں اپنی ذمہ داریوں کو دیکھ کر صرف اتنی ہی خواہش ہے۔ میں اپنی ذمہ داریوں کو دیکھ کر صرف اتنی ہی رکھتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کی گرفت کے نیچے نہ آؤں۔ کوئی اجر نہیں چاہتا۔ تو معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ بوجھ کتنا بڑا ہے جو خداتعالی کی خلافت اور نیابت کا بوجھ ہے۔ لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ حکومتوں میں ملازمتوں کے حصول کے لئے کتنی بڑی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کتنے باپ ہیں جو بیٹے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی زندگی کا یہ مقصد ٹھر الیتے ہیں کہ اس کو ڈ پٹی بنانا ہے اور پیدائش کے دن سے ہی بڑا ہونے تک اس کی اس رنگ میں تربیت کی جاتی ہے کہ وہ اس مقام تک پہنچے۔ اس کی نشو و نما اور پرورش کرتے وقت یہ ایک ہی خیال رکھا جاتا ہے کہ کل کو یہ سرکار کا غلام ہو۔ اس کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک ہی خیال اور مقصد چلا جاتا۔ جاتا ہے کہ یہ جوان ہو کر گورنمنٹ کا خادم ہو ۔ کسی اعلیٰ خدمت پر متعین ہو۔ اس کے والدین کے تمام اموال اور تمام افکار اس ایک ہی مقصد کیلئے خرچ ہوتے ہیں کہ کل کو ان کا بیٹا گورنمنٹ کا اعلیٰ درجہ کا خادم ہو۔ اس مقصد کے لئے عجیب عجیب باتیں ان سے سرزد ہوتی ہیں۔ ہماری جماعت کے ایک ہوشیار اور لائق دوست ہیں۔ وہ جب تعلیم سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اپنی سعادت مندی کے باعث اپنی والدہ سے جا کر پوچھا کہ آپ بتائیں میں اب کیا کام کروں۔ جس کام میں آپ کی خوشی ہو۔ وہی میں کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا بیٹا اگر مجھے خوش کرنا چاہتے ہو تو میری خوشی اس میں ہے کہ تم تھانیدار ہو جاؤ ۔ انہوں نے والدہ سے بہتیرا کہا کہ مجھے اس سے بڑا عہدہ مل سکتا ہے۔ یہ عہدہ اونی ہے۔ لیکن وہ یہیں کہیں کہ اگر مجھے خوش کرنا ہے۔ تو تھانیدار بنو۔ ان کے نزدیک یہی عہدہ سب سے بڑا تھا۔ اور انہوں نے شروع دن سے اپنے بیٹے کے لئے ہی بڑا مقصد ٹھرایا ہوا تھا کہ میرا بیٹا تھانیدار ہو گا۔ وہ دوست چونکہ سعادت مند تھے انہوں نے اپنی والدہ کی خوشی کے لئے تھانیداری کا عہدہ ہی لے لیا۔ اور جلدی ہی اس سعادت مندی کے باعث وہ تھانیداری سے ترقی کر گئے۔ اور تھوڑے ہی زمانہ بعد انسپکٹر ہو گئے۔ ۔ غرض لوگ معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی کوششیں کرتے ہیں۔ کیا کچھ صرف کرتے ہیں کہ