خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 264

سال 1927ء ۲۶۴ خطبات محمود لحاظ سے فلسفہ ہے۔ اور اس طرح کامیابی کا گر سکھایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِیمِ میں آزادی چاہی گئی ہے اور حریت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کسی کی پناہ ڈھونڈھنے کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ فلاں نے گرفت کی ہوتی ہے اس سے چھٹنا چاہتا ہوں پس اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرجیم میں یہ گر بتایا گیا ہے کہ کسی کام کے کرنے کے وقت اس کام کے دائرہ میں حریت اور آزادی حاصل کرنا ضروری چیز ہے۔ دیکھو ایک زمیندار کھیت ہونے کا کام کرنے سے پہلے کھیت کے ضروری حریت اور آزادی چاہتا ہے۔ کبھی کسی زمیندار کو نہ دیکھو گے کہ وہ کھیت میں سے پہلے فصل کی جڑیں۔ روڑے اور ڈھیلے صاف کئے بغیر اس میں بیج بو دے۔ وہ پہلے ان روکوں کو دور کرے گا جو کھیتی کے اگنے کے رستہ میں حائل ہیں اگر اس میں گزشتہ فصل کی جڑیں اور تنے ہوں گے تو ان کو نکالے گا۔ پتھر اور اینٹیں کھیت میں دبی ہوں گی تو ان کو دور کرے گا گھاس اگی ہو گی تو اسے اکھیڑے گا۔ غرض پہلے وہ کھیت کے متعلق حریت اور آزادی چاہے گا اور پھر بیچ ڈالے گا۔ اسی طرح جب ایک طالب علم خوش خطی کی مشق کرنا چاہتا ہے۔ تو پہلے سختی کو دھوتا اور صاف کرتا ہے وہ پہلے نشانوں کو مٹاتا ہے اور پھر اس پر لکھتا ہے۔ اسی طرح ایک بیمار آدمی کو جو بہت کمزور ہو گیا ہو۔ جب ڈاکٹر کے سامنے پیش کیا جائے گا تو وہ دیکھتے ہی اسے طاقت کی دوائیاں نہیں دے گا بلکہ وہ یہ معلوم کرے گا کہ کمزوری کی وجہ کیا ہے۔ وہ اس کا سینہ دیکھے گا۔ جگر دیکھے گا اور معلوم کرے گا کہ بیماری پیدا کرنے والی کیا چیز ہے۔ اور جب اسے پتہ لگ جائے گا تو اس کو دور کرنے کی کوشش کرے گا پھر جب وہ دور ہو۔ جب وہ دور ہو جائے گی تو کمزوری کو دور کرنے کی دوائیاں دے گا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان چار پائی پر پڑا ہوتا ہے۔ اٹھ کر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا بلکہ چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتا۔ اگر بیٹھتا ہے تو دوسروں کے سہارے بیٹھتا ہے مگر اس کے متعلق ڈاکٹر یہ تجویز کرتا ہے کہ اسے جلاب دینا چاہئے اس وقت ایک ناواقف تو کہے گا۔ جب اسے پہلے ہی اس قدر ضعف ہے تو پھر جلاب کیسا یا اگر ڈاکٹر کے کہ اس کا خون نکالنا چاہئے تو کوئی نادان کے گا جب یہ پہلے ہی مر رہا ہے تو خون نکالنے کا کیا مطلب ۔ مگر ڈاکٹر جانتا ہے کہ پہلے جب تک وہ بیماری دور نہ ہو گی جس کی وجہ سے اس قدر کمزوری لاحق ہو گئی ہے اس وقت تک کمزوری دور کرنے کی کوئی دوا مفید نہ ثابت ہوگی جب وہ روک دور ہو جائے گی تب طاقت کی دوا دی جائے گی۔ پس تمام کاموں کو کرنے کے وقت جس چیز کی سب سے پہلے ضرورت ہوتی ہے وہ اس کام کے لحاظ سے حریت اور آزادی ہوتی ہے۔ ان روکوں کو جو اس کام کے رشتہ میں حائل ہوں ان کا دور کرنا ضروری ہے۔